اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے نئے عدالتی سال کا آغاز تیز تر انصاف، بہتر کیس مینجمنٹ، ڈیجیٹل خدمات اور قابلِ پیمائش ادارہ جاتی اصلاحات پر توجہ کے اعلان کے ساتھ کیا ہے۔ نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے عدالت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا جائزہ پیش کیا اور کہا کہ عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی، شفافیت اور سائلین کے لیے آسان رسائی کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔

چیف جسٹس نے اصلاحاتی منصوبے کے چار بنیادی ستون بیان کیے: ٹیکنالوجی کے ذریعے خدمات کی فراہمی، انصاف تک رسائی اور شفافیت، قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنانا، اور انصاف کے شعبے سے وابستہ اداروں کو مؤثر بنانا۔ ان کے مطابق یہ اقدامات صرف انتظامی تبدیلیوں تک محدود نہیں بلکہ مقدمات کے اندراج، سماعت، فیصلوں کی ترسیل اور عوامی رابطے کے طریقہ کار کو زیادہ منظم بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

عدالت کی ڈیجیٹل تبدیلی کے حوالے سے زیر التوا اور نئے مقدمات کی ڈیجیٹائزیشن و بارکوڈنگ، احکامات اور فیصلوں کی الیکٹرانک ترسیل، ای آفس، پیپرلیس کورٹ سسٹم اور ای فائلنگ جیسے اقدامات کا ذکر کیا گیا۔ ان اصلاحات کا مقصد فائلوں کی نقل و حرکت میں تاخیر کم کرنا، ریکارڈ تک رسائی بہتر بنانا اور مقدمات کے انتظام میں قابلِ نگرانی ڈیجیٹل مراحل متعارف کرانا ہے۔

چیف جسٹس نے عوامی سہولت کے لیے پبلک فیسلیٹیشن سینٹر، ڈیجیٹل رابطہ ذرائع، منظم فیڈ بیک نظام اور سائلین، بیرون ملک پاکستانیوں اور میڈیا کے لیے سہولیات میں بہتری کو بھی عدالتی اصلاحات کا حصہ قرار دیا۔ تقریب میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ عدالت کی کارکردگی کا جائزہ صرف فیصلوں کی تعداد سے نہیں بلکہ مقدمات کے دورانیے، شفافیت اور شہریوں کے لیے عملی رسائی سے بھی ہونا چاہیے۔

نئے عدالتی سال کی یہ تقریر کسی ایک مقدمے سے متعلق عدالتی حکم نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے انتظامی اور ادارہ جاتی اہداف کا بیان ہے۔ اس لیے اعلان کردہ اصلاحات کے عملی نتائج کا انحصار ان کے نفاذ، عدالتی عملے کی تربیت، ٹیکنالوجی کے استعمال، بار اور دیگر انصاف سے متعلق اداروں کے تعاون اور قابلِ پیمائش پیش رفت پر ہوگا۔

پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں مقدمات کے بوجھ، سماعتوں میں تاخیر اور عدالتی خدمات تک رسائی طویل عرصے سے اہم انتظامی مسائل رہے ہیں۔ نئے عدالتی سال کے آغاز پر پیش کردہ ایجنڈا ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ڈیجیٹل نظام اور ادارہ جاتی نظم کو ایک مشترکہ اصلاحاتی راستے کے طور پر سامنے لاتا ہے۔