کراچی: آغا خان یونیورسٹی کی زیر قیادت ایک نئی تحقیق میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ پاکستان میں ڈینگی کے کیسز 2012 سے 2022 کے دوران 3 ہزار فیصد سے زیادہ بڑھے اور بیماری کا حقیقی بوجھ معمول کی سرکاری نگرانی میں سامنے آنے والی تعداد سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ تحقیق قومی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے کی گئی اور سائنسی جریدے PLOS ONE میں شائع ہوئی ہے۔

ڈان کی 9 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق مطالعے میں 2012 کے تقریباً ایک لاکھ تخمینی کیسز کے مقابلے میں 2022 کے لیے 32 لاکھ 80 ہزار کیسز کا اندازہ لگایا گیا۔ محققین نے لیبارٹری سے تصدیق شدہ ڈیٹا، علاج کے لیے رجوع کرنے کے رجحانات، تشخیصی ٹیسٹنگ اور لیبارٹری استعمال سمیت مختلف عوامل کو شماریاتی ماڈل میں شامل کیا تاکہ قومی سطح پر زیادہ نمائندہ تخمینہ تیار کیا جا سکے۔ اس لیے یہ اعداد براہ راست رپورٹ شدہ کیسز کی سادہ گنتی نہیں بلکہ تحقیقی ماڈل کے تخمینے ہیں۔

اے کے یو کی پروفیسر ارم خان کے مطابق تحقیق کی ایک نمایاں خصوصیت ملک گیر سطح پر کام کرنے والے تین تشخیصی لیبارٹری نیٹ ورکس کے معمول کے کلینیکل ڈیٹا کا استعمال ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے ان مریضوں کے بوجھ کا بھی بہتر اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو سرکاری نگرانی کے روایتی نظام میں مکمل طور پر شمار نہیں ہوتے۔

تحقیق میں صوبوں اور اضلاع کے درمیان نمایاں فرق سامنے آیا۔ 2022 میں سندھ کو سب سے زیادہ بوجھ والا علاقہ قرار دیا گیا، جہاں شرح 45.63 کیسز فی ایک ہزار آبادی اور مجموعی تخمینہ تقریباً 26 لاکھ 30 ہزار کیسز تھا۔ 15 سے 49 سال کی عمر کے افراد میں اضافہ زیادہ نمایاں بتایا گیا، جبکہ کراچی ایسٹ ضلع میں سب سے بلند تخمینی شرح سامنے آئی۔ اس کے برعکس بلوچستان کے لیے 2022 میں نسبتاً کم شرح اور تقریباً 6,785 کیسز کا تخمینہ دیا گیا۔

مطالعے کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر زرمین نسیم کے مطابق ڈینگی کو اب صرف موسمی خطرہ سمجھنا کافی نہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ مون سون کے بعد کیسز میں تیزی برقرار رہتی ہے، دستیاب تخمینے سال بھر منتقلی اور وقت کے ساتھ بڑے ہوتے پھیلاؤ کی علامات دکھاتے ہیں۔ یہ ایک تحقیقی نتیجہ ہے جسے صحت عامہ کی منصوبہ بندی میں نگرانی اور مقامی ڈیٹا کے ساتھ ملا کر دیکھنا ضروری ہوگا۔

محققین نے زیادہ مؤثر نگرانی، زیادہ خطرے والے اضلاع پر توجہ، ماحولیاتی اور مچھر کنٹرول اقدامات، ویکسین، وولباچیا بیکٹیریا پر مبنی مچھر پروگرام اور طبی عملے کی تربیت سمیت متعدد سطحوں پر روک تھام کی سفارش کی ہے۔ تحقیق کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ پاکستان میں ڈینگی کا بوجھ روایتی رپورٹنگ سے کہیں وسیع ہو سکتا ہے اور مستقل، جغرافیائی طور پر ہدفی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔