کراچی: آغا خان یونیورسٹی کی قیادت میں کی گئی ایک نئی تحقیق کے مطابق پاکستان میں ڈینگی کے تخمینی کیسز 2012 سے 2022 کے دوران 3 ہزار فیصد سے زیادہ بڑھے۔ ڈان کے مطابق تحقیق پی ایل او ایس ون میں شائع ہوئی اور اس میں قومی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ملک میں ڈینگی کے حقیقی بوجھ کا اندازہ لگانے کی کوشش کی گئی۔
تحقیق کے تخمینوں کے مطابق 2012 میں ڈینگی کے تقریباً ایک لاکھ کیسز تھے، جبکہ 2022 میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 32 لاکھ 80 ہزار ہوگئی۔ محققین کا کہنا ہے کہ سرکاری نگرانی کے نظام میں رپورٹ ہونے والے اعداد اصل بیماری کے بوجھ سے کم ہوسکتے ہیں، اس لیے انہوں نے لیبارٹری سے تصدیق شدہ معلومات، مریضوں کے علاج کے لیے رجوع کرنے کے رویوں، تشخیصی ٹیسٹنگ اور لیبارٹری کے استعمال سمیت متعدد عوامل کو شماریاتی ماڈل میں شامل کیا۔
مطالعے میں جغرافیائی فرق بھی نمایاں سامنے آیا۔ 2022 میں سندھ کو سب سے زیادہ بوجھ والا خطہ قرار دیا گیا، جہاں تخمینی شرح 45.63 کیسز فی ایک ہزار آبادی رہی اور مجموعی تعداد تقریباً 26 لاکھ 30 ہزار بتائی گئی۔ اسی سال بلوچستان میں تخمینی شرح سب سے کم رہی۔ عمر کے لحاظ سے 15 سے 49 سال کے افراد میں اضافہ زیادہ نمایاں دیکھا گیا۔
ضلعی سطح پر کراچی ایسٹ کو بلند ترین تخمینی شرح والے علاقوں میں سرفہرست بتایا گیا۔ تحقیق کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر زرمین نسیم کے مطابق ڈینگی کو صرف موسمی خطرہ سمجھنا کافی نہیں رہا؛ اگرچہ مون سون کے بعد کیسز بڑھتے ہیں، دستیاب تخمینے سال بھر منتقلی اور وقت کے ساتھ بڑے ہوتے پھیلاؤ کی علامات بھی دکھاتے ہیں۔
محققین نے نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنے، زیادہ خطرے والے اضلاع میں ہدفی اقدامات، مچھر کنٹرول، ویکسین سمیت متعدد روک تھام حکمت عملیوں اور طبی عملے کی تربیت پر زور دیا۔ یہ اعداد ماڈل پر مبنی تخمینے ہیں، براہ راست گنے گئے تمام کیسز نہیں، اس لیے انہیں تحقیق کے طریقہ کار اور اس کی حدود کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔




