دبئی/برمنگھم: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے انگلینڈ کے خلاف برمنگھم میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں سلو اوور ریٹ پر پاکستان کو 11 ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ پوائنٹس سے محروم کر دیا ہے۔ آئی سی سی کے مطابق وقت کی رعایتوں کو شامل کرنے کے بعد پاکستانی ٹیم مقررہ ہدف سے 11 اوور پیچھے رہی، جس پر قواعد کے تحت ہر کم اوور کے بدلے ایک چیمپئن شپ پوائنٹ کاٹا گیا۔

آئی سی سی نے کھلاڑیوں پر میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ بھی عائد کیا۔ ضابطوں کے مطابق ہر کم اوور پر کھلاڑیوں کی میچ فیس کا پانچ فیصد جرمانہ کیا جاتا ہے، تاہم مجموعی جرمانے کی حد 50 فیصد مقرر ہے۔ میچ ریفری رنجن مدوگالے نے پابندیاں عائد کیں، جبکہ آن فیلڈ امپائرز پال رائفل اور کرس گیفنی، تھرڈ امپائر اللہ الدین پالیکر اور فورتھ امپائر رسل وارن نے چارج رپورٹ کیا تھا۔

اس کٹوتی کے بعد پاکستان کی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ پوائنٹس پرسنٹیج مزید کم ہو کر 4.63 پر آگئی اور ٹیم جدول کے نچلے حصے میں رہی۔ اس سے پہلے بھی پاکستان اس سائیکل میں سلو اوور ریٹ پر سزا بھگت چکا ہے۔ مئی میں بنگلہ دیش کے خلاف ایک ٹیسٹ میں آٹھ چیمپئن شپ پوائنٹس کی کٹوتی اور 40 فیصد میچ فیس جرمانہ کیا گیا تھا۔ بار بار ہونے والی ایسی کٹوتیاں صرف مالی نقصان نہیں بلکہ چیمپئن شپ کی درجہ بندی پر بھی براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔

برمنگھم ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز 3-0 سے جیت لی تھی۔ سیریز میں پاکستان کی مجموعی کارکردگی پہلے ہی تنقید کی زد میں تھی اور نئی پوائنٹس کٹوتی نے ٹیم کی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ مہم کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

سلو اوور ریٹ کے قوانین کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ٹیمیں مقررہ وقت میں مطلوبہ اوور مکمل کریں اور کھیل کی رفتار متاثر نہ ہو۔ پاکستان کے لیے اب ٹیم مینجمنٹ اور کپتان کے سامنے یہ اضافی چیلنج بھی ہے کہ مستقبل کے ٹیسٹ میچوں میں بولنگ تبدیلیوں، فیلڈ سیٹنگ اور اوورز کے درمیان وقت کے بہتر نظم کے ذریعے مزید جرمانوں اور پوائنٹس کی کٹوتی سے بچا جائے۔