وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان نے اب تک تقریباً 5 ہزار 920 ارب روپے، یعنی 5.92 ٹریلین روپے، کے قرضے مقررہ وقت سے پہلے ادا کیے ہیں۔ حکومت اس پیش رفت کو قرض کے فعال انتظام، قلیل مدتی مہنگی ذمہ داریوں میں کمی اور مستقبل کے رول اوور خطرات محدود کرنے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہی ہے۔
قبل از وقت قرض ادائیگی سے مراد ایسی واجبات کی ادائیگی ہے جو اصل میچورٹی سے پہلے واپس کی جائیں۔ اگر زیادہ شرح سود والے قرض کو پہلے ادا کیا جائے تو مستقبل کی سود لاگت کم ہو سکتی ہے، تاہم اس کے لیے حکومت کے پاس مناسب نقد وسائل اور مالی گنجائش ہونا ضروری ہے۔
پاکستان کا مجموعی سرکاری قرض اب بھی بہت بڑا ہے اور بیرونی و داخلی قرض کی ادائیگیاں وفاقی بجٹ کے اہم ترین اخراجات میں شامل ہیں۔ اس لیے 5.92 ٹریلین روپے کی قبل از وقت ادائیگی کو مجموعی قرض کے خاتمے کے بجائے قرض پورٹ فولیو کے انتظام کے ایک اقدام کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
حکومت نے بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ میں واپسی، سکوک، پانڈا بانڈ اور روپے میں مگر ڈالر میں سیٹل ہونے والے مالی آلات سمیت فنڈنگ ذرائع متنوع بنانے کی حکمت عملی بھی بیان کی ہے۔ مقصد قلیل مدتی مہنگے قرض پر انحصار کم اور میچورٹی پروفائل بہتر کرنا ہے۔
یہ 5.92 ٹریلین روپے کا اعداد و شمار وزارت خزانہ کے مشیر کی جانب سے فراہم کیا گیا ہے۔ قرض انتظام کی کامیابی کا وسیع جائزہ سود کی اوسط لاگت، قرض کی مدت، زرمبادلہ خطرے اور قرض سے جی ڈی پی تناسب سمیت متعدد اشاریوں سے کیا جاتا ہے۔ قبل از وقت ادائیگیاں مثبت مالی گنجائش کی علامت ہو سکتی ہیں، مگر پائیدار بہتری کے لیے بجٹ خسارہ، محصولات اور معاشی نمو میں بھی مستقل پیش رفت ضروری ہے۔




