اردو ہیڈلائنز ڈیسک — امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو اس بین الاقوامی معاہدے کی پابندی کرنا ہوگی اور پانی کے معاملے میں یکطرفہ اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی سفیر نے واضح کیا کہ پانی پاکستان کے لیے بنیادی قومی اہمیت کا معاملہ ہے اور سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان آبی وسائل کی تقسیم کے لیے ایک تسلیم شدہ قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
رضوان سعید شیخ کے مطابق معاہدے سے متعلق کسی بھی فریق کا یکطرفہ طرز عمل نہ صرف باہمی تعلقات میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں اعتماد اور استحکام کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے معاملات کو طے شدہ قانونی اور سفارتی طریقہ کار کے تحت حل کیا جانا چاہیے اور معاہدے کی دفعات کا احترام دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔
سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم اور استعمال کے اصول متعین کرتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان آبی منصوبوں اور پانی کے بہاؤ سے متعلق اختلافات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں، جن کے حل کے لیے معاہدے میں مخصوص طریقہ کار موجود ہے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ معاہدے کے تحت حاصل حقوق کا تحفظ اس کی زرعی، معاشی اور آبی ضروریات کے لیے انتہائی اہم ہے۔
ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی سفیر نے عالمی برادری کی توجہ بھی اس امر کی جانب مبذول کرائی کہ پانی جیسے حساس معاملے کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے سے گریز ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے بین الاقوامی ذمہ داریوں اور باہمی معاہدوں کی پاسداری بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
پاکستانی سفیر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے اطلاق اور آبی معاملات پر اختلافات بدستور سفارتی توجہ کا مرکز ہیں۔ پاکستان نے اپنے مؤقف میں قانونی طریقہ کار، معاہدے کی پابندی اور پانی سے متعلق حقوق کے تحفظ پر زور برقرار رکھا ہے، جبکہ کسی بھی اختلاف کے حل کے لیے طے شدہ بین الاقوامی اور معاہداتی راستے اختیار کرنے کی ضرورت اجاگر کی گئی ہے۔




