اسلام آباد: پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان جی ایس پی پلس تجارتی سہولت کے مستقبل پر بات چیت جاری ہے جبکہ یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کروبلیس نے واضح کیا ہے کہ موجودہ مراعات کو یقینی یا خودکار سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ڈان کے مطابق موجودہ جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز کا فریم ورک رواں سال کے اختتام پر ختم ہو رہا ہے اور پاکستان کو اس کے جانشین نظام میں دوبارہ شمولیت کے لیے درخواست دینا ہوگی۔
یورپی سفیر نے کہا کہ نئی اسکیم میں شمولیت کے لیے حکومت کو ان شعبوں میں بہتری کے اقدامات کرنا ہوں گے جن کی نشاندہی یورپی ادارے کر چکے ہیں۔ ان کے بقول پاکستان کو ملنے والی جی ایس پی پلس ترجیحات برقرار رہ سکتی ہیں، تاہم یہ سہولت خود بخود نئی اسکیم میں منتقل نہیں ہوگی۔ موجودہ مستفید ممالک کے لیے دو سالہ عبوری مدت دسمبر 2028 تک رکھی گئی ہے، لیکن اس عبوری انتظام کو مستقل یا غیر مشروط توسیع نہیں سمجھا جا سکتا۔
یورپی کمیشن کی 2023 سے 2025 کی مدت سے متعلق جائزہ رپورٹ میں پاکستان کے لیے کئی ایسے شعبوں کی نشاندہی کی گئی تھی جہاں کمیشن نے عمل درآمد کی رفتار اور نتائج پر تحفظات ظاہر کیے۔ ان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، آزادی اظہار، صحافیوں اور اقلیتوں کے حقوق، عدالتی خودمختاری، انصاف تک رسائی اور جبری مشقت سے متعلق مسائل شامل تھے۔ یورپی سفیر نے کہا کہ نئی درخواست کے عمل میں ان نکات پر پیش رفت کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے یورپی یونین کے بعض جائزوں سے اختلاف کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ ملک کی کارکردگی کی تصویر زیادہ متوازن انداز میں پیش کی جانی چاہیے۔ تاہم اسلام آباد اور برسلز کے درمیان رابطے جاری ہیں اور پاکستانی حکام بین الاقوامی کنونشنز پر مؤثر عمل درآمد اور اصلاحات کے حوالے سے اپنا موقف پیش کر رہے ہیں۔
جی ایس پی پلس پاکستان کی برآمدی معیشت کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس کے تحت متعدد پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈی تک ترجیحی رسائی ملتی ہے۔ اسی لیے نئی اسکیم میں شمولیت کا فیصلہ صرف تجارتی نہیں بلکہ پالیسی، قانون سازی اور حقوق سے متعلق عملی پیش رفت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ آنے والے مہینوں میں پاکستان کی درخواست، یورپی یونین کی نگرانی اور متعلقہ کنونشنز پر عمل درآمد کی پیش رفت اس تجارتی سہولت کے تسلسل کے لیے فیصلہ کن رہے گی۔




