نیویارک: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر یورپی کونسل کے صدر انتونیو لوئس سانتوس دا کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لائن سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے سیاسی، تجارتی اور سفارتی تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔
سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے پاکستان-یورپی یونین اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر مکمل عمل درآمد اور یورپی بلاک کے ساتھ وسیع البنیاد شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ فریقین نے اعلیٰ سطح رابطوں میں بڑھتی ہوئی سرگرمی پر اطمینان کا اظہار کیا اور قیادت کی سطح پر مسلسل رابطے کو دوطرفہ تعلقات میں مزید سمت اور رفتار دینے کے لیے اہم قرار دیا۔
شہباز شریف نے خاص طور پر یورپی یونین کے GSP Plus تجارتی فریم ورک کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سہولت پاکستان کی برآمدات، روزگار اور معاشی ترقی کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس فریم ورک کے تحت یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطہ اور متعلقہ ذمہ داریوں پر کام جاری رکھنا چاہتا ہے۔
GSP Plus کے تحت اہل ممالک کو یورپی منڈی میں متعدد مصنوعات پر ترجیحی تجارتی رسائی ملتی ہے، تاہم اس نظام کے ساتھ انسانی حقوق، محنت، ماحولیات اور گورننس سے متعلق بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کی نگرانی بھی جڑی ہوتی ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے اس تجارتی فریم ورک کی اہمیت صرف برآمدی رعایتوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق پالیسی اور ضابطہ جاتی ذمہ داریوں سے بھی ہے۔
ملاقات میں علاقائی اور عالمی حالات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ سرکاری بیان کے مطابق رہنماؤں نے بات چیت، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت کی توثیق کی۔ وزیراعظم نے یورپی کونسل اور یورپی کمیشن کے صدور کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دہرائی۔
یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستان اپنی برآمدی منڈیوں میں وسعت، یورپ کے ساتھ تجارتی روابط اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ GSP Plus کے مستقبل اور اس سے متعلق کسی رسمی یورپی فیصلے کا انحصار یورپی یونین کے اپنے قانونی اور جائزہ جاتی عمل پر ہوگا؛ نیویارک کی ملاقات کو کسی نئے تجارتی فیصلے کے اعلان کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
