اسلام آباد: پاکستان میں رواں سال پولیو کا پانچواں کیس رپورٹ ہوا ہے۔ پولیو کے خاتمے کے لیے قائم ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کی 17 ماہ کی بچی میں وائرس کی تصدیق کی، جس کے بعد 2026 میں ملک بھر میں رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی مجموعی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔
دستیاب سرکاری اور میڈیا معلومات کے مطابق متاثرہ بچی بنوں ضلع کی تحصیل ڈومیل کے خندار خان خیل یونین کونسل سے تعلق رکھتی ہے۔ رواں سال سامنے آنے والے پانچ کیسز میں سے چار بنوں ڈویژن سے رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے جنوبی خیبر پختونخوا میں وائرس کی مسلسل موجودگی پر تشویش برقرار ہے۔ اس سے قبل 11 ستمبر کو بنوں ہی سے سال کا چوتھا کیس رپورٹ ہوا تھا۔
پاکستان پولیو پروگرام پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ جنوبی خیبر پختونخوا، خصوصاً بنوں ڈویژن میں سکیورٹی اور رسائی کے مسائل کے باعث بعض علاقوں میں بچوں تک ویکسینیشن ٹیموں کی مسلسل رسائی متاثر ہوتی رہی ہے۔ اسی خلا کو وائرس کی گردش برقرار رہنے کے اہم عوامل میں شمار کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کیسز میں نمایاں مجموعی کمی کے باوجود وائرس کے مکمل خاتمے تک ہر غیر ویکسین شدہ بچہ خطرے میں رہتا ہے۔
ستمبر میں ملک کے 112 اضلاع میں ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم چلائی گئی جس میں 28.2 ملین سے زیادہ بچوں کو قطرے پلانے کی اطلاع دی گئی۔ حکام کے مطابق پاکستان میں 2024 میں 74 اور 2025 میں 31 پولیو کیسز سامنے آئے تھے، جبکہ 2026 میں اب تک تعداد بہت کم رہی ہے، تاہم بنوں اور جنوبی خیبر پختونخوا میں وائرس کی جغرافیائی یکجائی مستقل نگرانی اور ہدفی ویکسینیشن کی ضرورت کو نمایاں کرتی ہے۔
پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو مستقل فالج کا سبب بن سکتی ہے، لیکن ویکسین کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ صحت حکام والدین پر زور دیتے رہے ہیں کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ہر ویکسینیشن مہم میں پولیو کے قطرے ضرور پلائے جائیں، کیونکہ متعدد خوراکیں بچے کی مدافعت مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔
نئے کیس کی تصدیق کے بعد متعلقہ علاقے میں نگرانی، رابطہ مہم اور ویکسینیشن سرگرمیوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ حکام کی اگلی اپ ڈیٹس سے وائرس کے جینیاتی تعلق اور مقامی ٹرانسمیشن چین کے بارے میں مزید تفصیل سامنے آ سکتی ہے۔
