اسلام آباد: پاکستان میں رواں سال پولیو کا پانچواں کیس رپورٹ ہوا ہے، جہاں خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں 17 ماہ کی بچی میں وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔ تازہ کیس کے بعد بنوں ڈویژن ایک بار پھر انسدادِ پولیو کوششوں کے لیے نمایاں تشویش کا مرکز بن گیا ہے، کیونکہ 2026 میں ملک بھر سے رپورٹ ہونے والے پانچ کیسز میں سے چار اسی ڈویژن سے سامنے آئے ہیں۔

ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون کی 29 ستمبر کی رپورٹس کے مطابق تازہ متاثرہ بچی کا تعلق ضلع بنوں سے ہے۔ اس کیس کے ساتھ بنوں ضلع میں رواں سال پولیو کیسز کی تعداد تین ہوگئی، جبکہ بنوں ڈویژن کے ایک اور ضلع شمالی وزیرستان سے بھی ایک کیس رپورٹ ہو چکا ہے۔ اس طرح قومی سطح پر سامنے آنے والے کیسز کا بڑا حصہ ایک محدود جغرافیائی علاقے میں مرتکز ہے۔

پولیو ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو بالخصوص کم عمر اور غیر محفوظ بچوں کو متاثر کرتی ہے اور بعض صورتوں میں مستقل فالج کا سبب بن سکتی ہے۔ پاکستان میں انسدادِ پولیو پروگرام کا بنیادی طریقہ بچوں کو بار بار پولیو ویکسین پلانا، وائرس کی ماحولیاتی نگرانی کرنا اور ان علاقوں میں ہدفی مہمات چلانا ہے جہاں وائرس کی موجودگی یا بچوں تک ویکسین کی رسائی میں خلا سامنے آئے۔

تازہ کیس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ بنوں اور اس سے ملحق علاقوں میں وائرس کی مسلسل موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صرف قومی مجموعی تعداد کم ہونا کافی نہیں؛ مقامی سطح پر وائرس کی ترسیل کی زنجیر توڑنے کے لیے ہر بچے تک ویکسین پہنچانا ضروری ہے۔ صحت حکام کے لیے ایسے علاقوں میں ویکسین سے محروم بچوں کی شناخت، موبائل آبادیوں کی کوریج اور مہمات کے دوران سکیورٹی و رسائی کے مسائل اہم عملی چیلنج رہتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان میں 2026 کے پانچ مصدقہ کیسز میں سے چار بنوں ڈویژن میں سامنے آنا جغرافیائی ارتکاز کو واضح کرتا ہے۔ یہ اعداد و شمار کسی نئے قومی پھیلاؤ کا ازخود ثبوت نہیں، تاہم متعلقہ اضلاع میں مسلسل نگرانی اور ویکسینیشن کی ضرورت کو نمایاں کرتے ہیں۔

انسدادِ پولیو حکمتِ عملی میں ہر نئے کیس کے بعد متاثرہ علاقے اور آس پاس کی آبادیوں میں وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کا جائزہ، بچوں کی ویکسینیشن حیثیت کی جانچ اور ضرورت کے مطابق اضافی مہمات شامل ہوتی ہیں۔ تازہ کیس کے بعد بھی توجہ بنوں اور آس پاس کے علاقوں میں ویکسین کی کوریج بہتر بنانے اور وائرس کی ترسیل روکنے پر مرکوز رہے گی۔