اسلام آباد: پاکستان نے شارک اور اس سے متعلق سمندری انواع کے تحفظ کے لیے اپنا پہلا دس سالہ قومی ایکشن پلان متعارف کرا دیا ہے۔ جیو نیوز پر شائع ہونے والی اے پی پی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے منصوبے کا اعلان کیا، جس کا ہدف 2035 تک پاکستانی سمندری حدود میں شارک کی کم ہوتی آبادی کی بحالی اور ماہی گیری کے زیادہ پائیدار طریقوں کو فروغ دینا ہے۔

منصوبے کے تحت غیر قانونی شارک فننگ کی روک تھام، غیر ارادی طور پر جال میں آنے والی شارک اور دوسری متعلقہ انواع یعنی بائی کیچ میں کمی، اہم سمندری مساکن کا تحفظ اور ماہی گیری کے نظم و نسق کو بہتر بنانا شامل ہے۔ عمل درآمد تین مراحل میں کیا جائے گا اور ہر تین سال بعد باضابطہ جائزہ لینے کی تجویز رکھی گئی ہے تاکہ پیش رفت اور پالیسی اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے۔

قومی ایکشن پلان صرف شارک تک محدود نہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس کا دائرہ پاکستانی پانیوں میں پائی جانے والی تمام کارٹیلیجینس مچھلیوں تک پھیلا ہوا ہے، جن میں شارک، ریز، اسکیٹس اور کائمیرا شامل ہیں۔ خصوصی توجہ ان انواع پر دی جائے گی جو تجارتی ماہی گیری کا ہدف بنتی ہیں یا بائی کیچ کے باعث زیادہ اموات کا سامنا کرتی ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق منصوبہ پاکستان کے ماحولیاتی، ادارہ جاتی اور سماجی و اقتصادی حالات کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا ہے اور اسے اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کے بین الاقوامی پلان آف ایکشن برائے شارکس اور دیگر عالمی طریقہ کار سے ہم آہنگ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے ذمہ دارانہ سمندری وسائل کے انتظام اور کمزور یا ممنوعہ شکار والی انواع کے لیے مضبوط حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار عملی نفاذ، اعداد و شمار جمع کرنے، نگرانی، قانون نافذ کرنے اور ماہی گیر برادریوں کے ساتھ مؤثر تعاون پر ہوگا۔ دستیاب رپورٹ میں منصوبے کے ہر مرحلے کے مالی حجم یا الگ الگ نفاذی اہداف کی مکمل تفصیل موجود نہیں، اس لیے ان امور کے بارے میں قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ پاکستان نے پہلی مرتبہ قومی سطح پر ایک طویل مدتی فریم ورک متعارف کرایا ہے جس میں شارک اور متعلقہ سمندری انواع کے تحفظ کو پائیدار ماہی گیری کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔