اسلام آباد: پاکستان کی غذائی اشیا کی برآمدات جولائی 2026 میں سالانہ بنیاد پر 2.47 فیصد بڑھ کر 43 کروڑ 70 لاکھ 78 ہزار ڈالر رہیں۔ دی نیشن کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق پاکستان بیورو آف شماریات کے اعداد میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کی 42 کروڑ 65 لاکھ 55 ہزار ڈالر برآمدات کے مقابلے میں اضافہ دکھایا گیا ہے۔ یہ ایک ماہ کا تقابل ہے اور پورے مالی سال کے نتیجے کی نمائندگی نہیں کرتا۔
اعداد کے مطابق چاول کی برآمدات میں 19.15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ چاول پاکستان کے غذائی برآمدی ڈھانچے کی بڑی مدوں میں شامل ہے، اس لیے اس میں تبدیلی مجموعی گروپ کے نتیجے پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔ رپورٹ میں مختلف غذائی زمروں کی الگ الگ کارکردگی بھی دی گئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مجموعی اضافہ صرف ایک مصنوع تک محدود نہیں رہا۔
مچھلی اور اس سے تیار مصنوعات، گوشت اور گوشت کی تیاریوں، مصالحہ جات اور بعض دوسری خوراکی مدوں میں بھی بڑھوتری بتائی گئی۔ تمباکو کی برآمدات میں 72.55 فیصد، مصالحہ جات میں 9.95 فیصد اور گوشت و گوشت کی تیاریوں میں 16.20 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا۔ تیل دار بیجوں، گری دار میووں اور گٹھلیوں کے زمرے میں 493.70 فیصد کی بڑی سالانہ بڑھوتری درج کی گئی، مگر بلند شرح کو سمجھتے وقت پچھلے سال کی بنیادی قدر کو بھی دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔
ایک ماہ کے اعداد عالمی قیمتوں، کھیپ کے وقت، دستیاب فصل، بندرگاہی روانگی اور خریدار ممالک کی طلب سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے کسی ایک مہینے کی فیصدی تبدیلی سے مستقل رجحان اخذ کرنا مناسب نہیں۔ اگلے مہینوں میں مقدار، فی یونٹ قیمت اور اہم منڈیوں کی طلب کو ساتھ دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ موجودہ اضافہ برقرار رہتا ہے یا موسمی و ترسیلی عوامل کے باعث بدلتا ہے۔
برآمدات میں قدر کا اضافہ زر مبادلہ کے لیے مثبت اشارہ ہو سکتا ہے، لیکن کاشت کار اور پروسیسنگ صنعت پر حقیقی اثر جانچنے کے لیے پیداواری لاگت، اندرون ملک دستیابی، معیار، کولڈ چین اور برآمدی حاشیے کا جائزہ بھی ضروری ہے۔ دستیاب خبر کسی نئی سبسڈی، ہدف یا تجارتی معاہدے کا اعلان نہیں کرتی، لہٰذا رپورٹ میں ایسے کسی اقدام کو نتیجے کی وجہ قرار نہیں دیا گیا۔
یہ رپورٹ پاکستان بیورو آف شماریات کے اعداد کے بارے میں دی نیشن کی براہ راست خبر پر مبنی ہے۔ تمام شرحیں اور ڈالر مالیت اسی ماخذ کے مطابق رکھی گئی ہیں، جبکہ غیر مذکور مقدار، قیمت یا مستقبل کی پیش گوئی شامل نہیں کی گئی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




