اسلام آباد: چین کو پاکستان کی مچھلی اور دوسری سمندری خوراک کی برآمدات 2026 کے پہلے سات ماہ میں تقریباً 22 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 15 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ ہیں۔ دی نیشن کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق اعداد چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز سے لیے گئے اور چائنا اکنامک نیٹ ورک نے انہیں رپورٹ کیا۔
رپورٹ میں مختلف سمندری مصنوعات کی ترسیل کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اضافہ کسی ایک جنس تک محدود نہیں۔ چین کی بڑی خوراکی منڈی میں مچھلی، جھینگے اور پراسیس شدہ سمندری مصنوعات کے لیے معیار، سرد زنجیر اور بروقت سپلائی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ برآمدی قدر کی تبدیلی پر مقدار کے ساتھ عالمی قیمت اور مصنوعات کے امتزاج کا بھی اثر پڑتا ہے۔
دستیاب تفصیل کے مطابق پاکستان کے تقریباً 200 سمندری خوراک برآمد کنندگان اور 10 فش میل تیار کرنے والے ادارے چینی نظام میں رجسٹرڈ ہیں۔ رجسٹریشن مارکیٹ تک رسائی کی ضروری شرط ہو سکتی ہے، لیکن ہر رجسٹرڈ ادارے کی مسلسل یا مساوی برآمد لازمی نہیں۔ حقیقی تجارتی حصہ منظور شدہ سہولت، خریدار کے آرڈر، معیار کی پابندی اور کھیپ کی منظوری سے متعین ہوتا ہے۔
چین کے ساتھ آزاد تجارتی انتظام کے تحت ٹیرف رسائی نے پاکستانی برآمد کنندگان کو موقع دیا ہے، تاہم طویل مدت میں مسابقت کے لیے مچھلی پکڑنے کے پائیدار طریقے، ساحلی ذخائر کا تحفظ، ٹریس ایبلٹی، حفظان صحت اور جدید پروسیسنگ بھی ضروری ہیں۔ اگر خام مال کی فراہمی غیر مستحکم ہو یا کولڈ چین کمزور پڑے تو صرف ٹیرف رعایت مسلسل نمو کی ضمانت نہیں دے سکتی۔
سات ماہ کے اعداد برآمدی رفتار کا مثبت اشارہ ہیں، مگر پورے سال کی کارکردگی موسم، ماہی گیری کی دستیابی، چینی طلب، قیمتوں اور باقی مہینوں کی کھیپ سے طے ہوگی۔ برآمدی قدر بڑھنے کے ساتھ مقامی ماہی گیروں اور پروسیسنگ کارکنوں کو فائدہ پہنچنے کا جائزہ الگ معاشی اعداد سے کرنا ہوگا؛ موجودہ خبر آمدن کی تقسیم کے بارے میں نتیجہ نہیں دیتی۔
یہ رپورٹ دی نیشن میں شائع ہونے والے چینی کسٹمز اعداد تک محدود ہے۔ 22 کروڑ ڈالر، 41 فیصد اضافہ، تقریباً 200 برآمد کنندگان اور 10 فش میل اداروں کے اعداد اسی ماخذ کے مطابق ہیں؛ کسی مستقبل کے ہدف یا غیر مذکور تجارتی معاہدے کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




