ٹھٹھہ: سندھ کے ضلع ٹھٹھہ کے علاقے گھارو میں وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت جدید ایکوا کلچر فارمز قائم کیے گئے ہیں۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق منصوبے کا مقصد آبی زراعت کی پیداوار، غذائی تحفظ، کسانوں کی آمدن اور برآمدی مواقع میں اضافہ کرنا ہے۔

گھارو کے فارموں میں ٹیلاپیا، پینگاسیئس اور دوسری اقسام کی مچھلیوں کی افزائش کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پانی کے معیار، آکسیجن، خوراک اور بائیو سکیورٹی کی مسلسل نگرانی کے ذریعے مچھلی کی صحت اور پیداوار بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ طریقہ روایتی تالاب کے مقابل انتظامی ڈیٹا اور باقاعدہ معائنہ پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔

منصوبے میں پولی کلچر فارمنگ بھی استعمال ہو رہی ہے، جس میں ایک ہی فارم پر مختلف اقسام کی مچھلیاں پالی جاتی ہیں۔ منتظمین کے مطابق اس سے دستیاب پانی اور خوراکی سطحوں کا بہتر استعمال اور مجموعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے۔ گھارو میں ایکویریم میں رکھی جانے والی آرائشی مچھلیوں کی فارمنگ بھی متعارف کرائی گئی ہے۔

رپورٹ میں پاک گھارو اور ملائیشیا کی کمپنی جی کے ایکوا ایس ڈی این بی ایچ ڈی کے اشتراک سے ملک کی پہلی آل میل فریش واٹر جائنٹ پراون ہیچری قائم ہونے کا ذکر ہے۔ مونو سیکس بریڈنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے یکساں افزائش اور بڑے تجارتی سائز کے جھینگے حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ جھینگا ٹیلاپیا اور پینگاسیئس کے ساتھ بھی پالا جا سکتا ہے۔

منصوبے سے برآمدات اور قومی معیشت کو فائدہ پہنچنے کی توقع سرکاری پروگرام سے وابستہ دعویٰ ہے؛ زیرِ حوالہ رپورٹ میں موجودہ سالانہ پیداوار، سرمایہ کاری کی مجموعی لاگت، کسانوں کی تعداد یا برآمدی آرڈرز کے قطعی اعداد شامل نہیں۔ اس لیے فارم اور ہیچری کا قیام عملی پیش رفت ہے، جبکہ آمدن اور برآمدات میں اضافہ آئندہ پیداوار اور منڈی کے نتائج سے جانچا جائے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک