اسلام آباد: اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مجموعی غذائی فراہمی ملک کے اپنے غذائی رہنما اصولوں میں تجویز کردہ متوازن خوراک سے ہم آہنگ نہیں، اور کئی اہم غذائیت بخش غذائی گروپوں میں مسلسل کمی پائی جاتی ہے۔ رپورٹ میں خصوصاً سبزیوں، جڑوں اور کندوں، پھلوں، دالوں اور پھلیوں کی دستیابی میں خلا کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ خوراک کی دستیابی کو صرف مجموعی کیلوریز یا اناج کی مقدار سے نہیں جانچا جا سکتا۔ متوازن غذا کے لیے مختلف غذائی گروپوں کی مناسب مقدار ضروری ہوتی ہے، اور اگر غذائی نظام میں بعض گروپ مسلسل کم رہیں تو صحت مند غذا تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے قومی غذائی رہنما اصول مختلف غذائی اقسام کے استعمال پر زور دیتے ہیں، لیکن ایف اے او کے تجزیے کے مطابق ملکی خوراک کی فراہمی کا موجودہ ڈھانچہ ان سفارشات سے مکمل مطابقت نہیں رکھتا۔
سبزیوں اور پھلوں جیسی غذائیں وٹامنز، معدنیات اور فائبر کا اہم ذریعہ ہیں، جبکہ دالیں اور پھلیاں پروٹین سمیت کئی غذائی اجزا فراہم کرتی ہیں۔ ان غذائی گروپوں کی ناکافی دستیابی کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ ہر فرد کو یکساں کمی کا سامنا ہے، کیونکہ گھرانوں کی آمدن، قیمتیں، جغرافیہ اور بازار تک رسائی بھی خوراک کے استعمال پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم قومی سطح پر رسد کا خلا غذائی پالیسی اور زرعی پیداوار کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔
رپورٹ سے یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ زرعی پالیسی کو محض بنیادی اجناس کی پیداوار کے بجائے غذائیت کے اہداف سے کس حد تک جوڑا جا رہا ہے۔ فصلوں کی تنوع، ذخیرہ و ترسیل، منڈی تک رسائی، قیمتوں کے استحکام اور غذائیت بخش خوراک کی استطاعت جیسے عوامل ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ اس لیے غذائی فراہمی میں بہتری کے لیے زراعت، صحت، تجارت اور سماجی تحفظ کی پالیسیوں کے درمیان ہم آہنگی اہم ہوگی۔
ایف اے او کی نشاندہی کسی ایک فصل یا ایک سال کی پیداوار تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ خوراک کے نظام کی ساخت سے متعلق ہے۔ پالیسی سازوں کے لیے اگلا مرحلہ یہ ہوگا کہ قومی غذائی سفارشات اور حقیقی خوراک کی فراہمی کے درمیان فرق کو کم کرنے کے لیے پیداوار، قیمت اور رسائی سے متعلق اقدامات کو کس طرح مربوط کیا جائے، تاکہ صحت مند اور متنوع غذا زیادہ گھرانوں کے لیے قابل حصول بن سکے۔
