پاکستان کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر ایک ہفتے کے دوران تقریباً 1.18 ارب ڈالر اضافے کے بعد 23.716 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار 4 ستمبر 2026 تک کی پوزیشن ظاہر کرتے ہیں، جبکہ 28 اگست کو مجموعی ذخائر 22.528 ارب ڈالر تھے۔
مرکزی بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر میں زیادہ نمایاں اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق اس کے ذخائر ایک ہفتے میں تقریباً 1.21 ارب ڈالر بڑھ کر 18.328 ارب ڈالر ہو گئے، جو اس سے پچھلے ہفتے 17.118 ارب ڈالر تھے۔ مرکزی بینک نے اضافے کی بنیادی وجہ حکومت پاکستان کو موصول ہونے والی کمرشل قرض کی رقوم قرار دی ہے۔
اس کے برعکس کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص زرمبادلہ ذخائر میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ان ذخائر میں تقریباً 2 کروڑ 25 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی اور یہ 5.388 ارب ڈالر رہ گئے۔ مرکزی بینک اور کمرشل بینکوں کے ذخائر کو ملا کر ملک کے مجموعی مائع ذخائر کا حجم 23.716 ارب ڈالر بنتا ہے۔
زرمبادلہ ذخائر پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں، درآمدی ضروریات، قرضوں کی ادائیگی اور کرنسی مارکیٹ میں اعتماد کے حوالے سے اہم معاشی اشاریہ سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم کسی ایک ہفتے کا بڑا اضافہ مستقل رجحان کی ضمانت نہیں ہوتا، بالخصوص جب اضافہ قرض کی آمد سے منسلک ہو۔ ذخائر کی پائیداری کا انحصار برآمدات، ترسیلات زر، بیرونی سرمایہ کاری، درآمدی ادائیگیوں اور قرضوں کے بہاؤ سمیت کئی عوامل پر ہوتا ہے۔
اسٹیٹ بینک مالی سال 2025-26 کے اختتام تک اپنے ذخائر 18 ارب ڈالر سے اوپر لے جانے کا ہدف حاصل کر چکا تھا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق دسمبر 2026 کے لیے مرکزی بینک نے 20.20 ارب ڈالر کے ذخائر کا ہدف مقرر کیا ہے۔ تازہ ہفتہ وار سطح اس ہدف سے ابھی کم ہے، اگرچہ حالیہ قرض کی آمد نے ذخائر میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔
یہ رپورٹ اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ ہفتہ وار اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ مستقبل میں ذخائر کی سطح بیرونی رقوم کی آمد اور ادائیگیوں کے شیڈول کے مطابق تبدیل ہو سکتی ہے۔




