اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک اور اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول 5 روپے 2 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 5 روپے 28 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے۔ وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 12 ستمبر سے ہوگا اور یہ 14 ستمبر تک برقرار رہیں گی۔
تازہ فیصلے کے بعد موٹر اسپرٹ، یعنی پیٹرول، کی ایکس ڈپو قیمت 370.80 روپے سے بڑھ کر 375.82 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 398.04 روپے سے بڑھا کر 403.32 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ یوں ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 400 روپے کی سطح سے بھی اوپر چلی گئی ہے۔
بزنس ریکارڈر اور ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹس کے مطابق یہ مسلسل پانچواں موقع ہے جب حالیہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔ گزشتہ پانچ دنوں کے دوران پیٹرول مجموعی طور پر 29.95 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 25.27 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا ہے۔ ایک روز قبل بھی پیٹرول 3.05 روپے اور ڈیزل 5.37 روپے فی لیٹر بڑھایا گیا تھا۔
حکومت نے جولائی میں پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کے تعین کے لیے روزانہ جائزے کا طریقہ اختیار کیا تھا، جس کے تحت عالمی منڈی، درآمدی لاگت اور دیگر متعلقہ عوامل کو دیکھتے ہوئے قیمتیں زیادہ وقفے کے بجائے مختصر مدت کے لیے نوٹیفائی کی جا رہی ہیں۔ تازہ نرخ بھی اسی نظام کے تحت مقرر کیے گئے ہیں۔
عالمی تیل منڈی حالیہ مشرق وسطیٰ کشیدگی اور اہم بحری راستوں پر رسد کے خدشات کے باعث غیر معمولی اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے خام تیل، ریفائنڈ مصنوعات، فریٹ اور زرمبادلہ کی لاگت میں تبدیلی مقامی قیمتوں پر تیزی سے اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے اثرات نقل و حمل، زرعی سرگرمیوں، بجلی کی پیداواری لاگت اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل پر پڑنے کا امکان رہتا ہے۔ تاہم نوٹیفکیشن میں بنیادی طور پر نئی ایکس ڈپو قیمتیں اور ان کے نفاذ کی مدت بیان کی گئی ہے؛ آئندہ ردوبدل کا انحصار اگلے سرکاری جائزے پر ہوگا۔




