پاکستان اور فرانس نے دفاعی تعلقات اور انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور فرانسیسی عہدیدار نکولس روش کے درمیان ملاقات میں سامنے آئی، جس میں دوطرفہ دفاعی روابط اور خطے کی سلامتی کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔

ملاقات کے دوران دونوں جانب سے دفاعی تعاون کے موجودہ شعبوں اور مستقبل میں رابطے بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انسداد دہشت گردی بھی گفتگو کا اہم حصہ رہی، کیونکہ پاکستان کو حالیہ عرصے میں سرحدی علاقوں اور ملک کے اندر شدت پسند حملوں کے چیلنج کا سامنا ہے جبکہ یورپی ممالک بھی بین الاقوامی دہشت گردی، انتہا پسندی اور سرحد پار نیٹ ورکس سے متعلق تعاون کو اہم سمجھتے ہیں۔

پاکستانی فوجی قیادت نے مختلف بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ دفاعی سفارت کاری اور پیشہ ورانہ تبادلوں کو جاری رکھا ہوا ہے۔ فرانس کے ساتھ تعلقات میں دفاعی تربیت، فوجی رابطے، سکیورٹی امور اور خطے کی صورتحال پر مشاورت جیسے موضوعات شامل رہتے ہیں۔ تازہ ملاقات میں کسی نئے دفاعی معاہدے، ہتھیاروں کی خریداری یا فوجی تعیناتی کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے پیش رفت کو تعاون بڑھانے کے سیاسی و ادارہ جاتی عزم تک محدود سمجھا جانا چاہیے۔

دونوں فریقوں نے علاقائی امن و استحکام کی اہمیت پر بھی بات کی۔ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث سکیورٹی رابطوں کی اہمیت بڑھی ہے اور مختلف ممالک فوجی و سفارتی سطح پر معلومات اور پالیسی جائزوں کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ پاکستان کا موقف رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے ساتھ علاقائی تنازعات کے سیاسی حل بھی ضروری ہیں۔

ملاقات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اسلام آباد اور پیرس دفاعی تعلقات کو جاری رکھنے اور انسداد دہشت گردی میں عملی رابطہ بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ آئندہ تعاون کی نوعیت مشترکہ تربیت، ادارہ جاتی مذاکرات یا دیگر مخصوص پروگراموں کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے، تاہم ایسی تفصیلات کا اعلان متعلقہ حکومتوں یا دفاعی اداروں کی جانب سے ہونے کے بعد ہی حتمی طور پر کیا جا سکے گا۔