راولپنڈی: پاکستان اور فرانس کے اعلیٰ حکام نے دفاعی و سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فرانس کے جنرل سیکریٹریٹ برائے دفاع و قومی سلامتی کے سیکریٹری جنرل نکولس روش نے جنرل ہیڈکوارٹرز میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔

ڈان کے مطابق فرانسیسی سفیر ژاں نوئل پوئریے بھی فرانسیسی وفد کے ہمراہ تھے۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے معاملات، علاقائی سکیورٹی کی صورتحال اور دفاع و سلامتی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون زیر بحث آیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فرانس کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور دفاعی و سکیورٹی تعاون میں مزید اضافے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق نکولس روش نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کا ذکر کیا اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے میں فرانس کی دلچسپی ظاہر کی۔ ملاقات کے بعد کسی نئے دفاعی معاہدے، خریداری، مشترکہ مشق یا مخصوص منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے پیش رفت کو فی الحال اعلیٰ سطح کے پالیسی اور سکیورٹی رابطے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

فرانس کا جنرل سیکریٹریٹ برائے دفاع و قومی سلامتی فرانسیسی حکومتی نظام میں دفاع اور قومی سلامتی کے اہم معاملات پر وزیراعظم کی معاونت کرتا ہے۔ اس کے دائرہ کار میں اسٹریٹجک دفاع، قومی سلامتی، فوجی منصوبہ بندی، جوہری بازدارندگی، اقتصادی و توانائی سلامتی، سائبر سکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور غیر ملکی ڈیجیٹل مداخلت جیسے موضوعات شامل ہیں۔ اس پس منظر میں ادارے کے سیکریٹری جنرل کا دورہ دفاعی تعلقات کے علاوہ وسیع تر قومی سلامتی تعاون سے بھی متعلق ہے۔

یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستان اور فرانس کے درمیان سفارتی سطح پر بھی رابطے جاری ہیں۔ ایک روز قبل نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو سے ملاقات کی تھی۔ دفتر خارجہ کے مطابق اس بات چیت میں مشرق وسطیٰ کے تنازع کے تناظر میں بحری آمدورفت کی حفاظت، توانائی کی بلا تعطل فراہمی اور سفارتی کوششوں کی اہمیت پر گفتگو ہوئی۔

راولپنڈی میں ہونے والی تازہ ملاقات نے دونوں ممالک کے درمیان دفاع اور قومی سلامتی کے ادارہ جاتی رابطوں کو نمایاں کیا ہے۔ تاہم تعاون کی آئندہ عملی شکل، ممکنہ مشترکہ پروگراموں یا کسی نئے باضابطہ فریم ورک کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ مزید پیش رفت متعلقہ حکومتوں یا دفاعی اداروں کے آئندہ اعلانات سے واضح ہوگی۔