اسلام آباد: وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں بہتر ٹیکس وصولیوں اور سبسڈیز میں بڑی کمی کے باوجود بڑھتی سودی ادائیگیوں اور ترقیاتی اخراجات نے پاکستان کی مالی پوزیشن پر دباؤ ڈالا۔ وزارت کے اکتوبر کے ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک کے مطابق جولائی تا ستمبر مجموعی مالی سرپلس 1.198 ٹریلین روپے، یعنی جی ڈی پی کے 0.8 فیصد تک محدود رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 2.124 ٹریلین روپے یا جی ڈی پی کا 1.7 فیصد تھا۔

رپورٹ کے مطابق بنیادی سرپلس بھی گزشتہ سال کے 2.3 فیصد جی ڈی پی، یعنی 2.94 ٹریلین روپے، سے کم ہوکر 1.6 فیصد یا تقریباً 2.3 ٹریلین روپے رہ گیا۔ وزارت نے اس کے باوجود کہا کہ مالی پالیسی کا رخ آمدن بڑھانے، اخراجات میں احتیاط اور معاشی استحکام برقرار رکھنے پر مرکوز رہے گا۔

اخراجات کے اندر ساختی تبدیلی نمایاں رہی۔ مجموعی اخراجات میں 20.7 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ ترقیاتی اخراجات میں 69.5 فیصد اضافہ تھا۔ موجودہ اخراجات 14.7 فیصد بڑھے، تاہم غیر سودی اخراجات میں 8.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جس میں سبسڈیز میں تقریباً 90 فیصد کمی اہم عنصر تھی۔ اس کے برعکس مارک اپ یا سودی ادائیگیاں 36.6 فیصد بڑھ گئیں، جس سے مالی گنجائش پر دباؤ برقرار رہا۔

محصولات کے محاذ پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جولائی تا ستمبر 3.086 ٹریلین روپے ٹیکس جمع کیا، جو گزشتہ سال سے 7 فیصد زیادہ اور مقررہ ہدف سے 33.2 ارب روپے زائد تھا۔ براہ راست ٹیکس 5.5 فیصد اور بالواسطہ ٹیکس 8.3 فیصد بڑھے۔ بالواسطہ ٹیکسوں میں سیلز ٹیکس کی شرح نمو 11.6 فیصد، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 3.6 فیصد اور کسٹمز ڈیوٹی 0.5 فیصد رہی۔

بیرونی کھاتے میں پہلی سہ ماہی کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 874 ملین ڈالر رہا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 755 ملین ڈالر سے تقریباً 16 فیصد زیادہ ہے۔ دوسری طرف ستمبر میں 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ اجرا کے بعد پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں 2.9 ارب ڈالر کی خالص آمد ریکارڈ کی گئی، جبکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً 20 فیصد بڑھ کر 720 ملین ڈالر ہوگئی۔ وزارت کے مطابق ان عوامل سے مجموعی ادائیگیوں کے توازن میں 3.1 ارب ڈالر کا سرپلس سامنے آیا۔

وزارت خزانہ نے اکتوبر 2026 کے لیے ہیڈ لائن مہنگائی 9.5 سے 10.5 فیصد کے درمیان رہنے کا اندازہ دیا اور عالمی توانائی قیمتوں، خوراک کی رسد اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کو اہم خطرات میں شمار کیا۔ رپورٹ نے اسٹیٹ بینک کی پالیسی شرح 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کرنے کے فیصلے کی حمایت بھی کی، اگرچہ بلند شرح سود خود سرکاری قرض پر سودی لاگت بڑھانے والا عنصر ہے۔ آنے والی سہ ماہیوں میں مالی توازن کا دارومدار ٹیکس وصولیوں، توانائی و اجناس کی قیمتوں، شرح سود اور ترقیاتی اخراجات کی رفتار پر رہے گا۔