کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو تیزی کا سلسلہ مسلسل چوتھے کاروباری سیشن تک جاری رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,456 پوائنٹس، یعنی 0.88 فیصد اضافے کے ساتھ 167,193 پوائنٹس پر بند ہوا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سیشن کے دوران تقریباً 366 ملین حصص کا کاروبار ہوا اور بڑے سرمایہ جاتی حصص میں خریداری نے انڈیکس کو سہارا دیا۔
مارکیٹ میں کمرشل بینکوں، فرٹیلائزر، انویسٹمنٹ بینکنگ، تیل و گیس اور ریفائنری شعبوں نے مثبت کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں ایف ایف سی، اینگرو ہولڈنگز، حبیب بینک، ایم سی بی اور یونائیٹڈ بینک کو نمایاں مثبت contributors میں شمار کیا گیا، جبکہ CNERGY، کے الیکٹرک، پی ٹی سی اور بینک آف پنجاب کے حصص میں نسبتاً زیادہ تجارتی سرگرمی دیکھی گئی۔
مارکیٹ مبصرین کے مطابق حالیہ کارپوریٹ نتائج نے سرمایہ کاروں کے رجحان کو تقویت دی ہے۔ بعض بڑی کمپنیوں کے توقع سے بہتر مالی نتائج کے بعد heavyweight stocks میں خریداری بڑھی۔ اسی دوران بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً ایک فیصد کمی نے بھی درآمدی لاگت سے متعلق دباؤ کے تناظر میں کچھ مثبت تاثر پیدا کیا۔
سرمایہ کاروں نے اسٹیٹ بینک کی حالیہ 50 بیسس پوائنٹس شرح سود میں اضافے اور rollover سے متعلق خدشات کو بھی بڑی حد تک قیمتوں میں شامل کر لیا ہے۔ تاہم ایک روز یا چند سیشن کی تیزی کو طویل مدتی رجحان کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ حصص کی قیمتیں شرح سود، کمپنیوں کے نتائج، عالمی اجناس، سیاسی حالات اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کے بہاؤ سے تیزی سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
چار مسلسل مثبت سیشنز کے بعد مختصر مدت میں profit-taking یا consolidation کا امکان بھی موجود ہے۔ آئندہ سیشنز میں تجارتی حجم اور بڑے حصص میں خریداری کی پائیداری اس بات کے اہم اشارے ہوں گے کہ موجودہ رفتار برقرار رہتی ہے یا مارکیٹ عارضی وقفہ لیتی ہے۔
کے ایس ای 100 کا 167 ہزار پوائنٹس سے اوپر بند ہونا موجودہ ہفتے میں سرمایہ کاروں کے بہتر رجحان کی عکاسی کرتا ہے، مگر مارکیٹ کی آئندہ سمت کے لیے کارپوریٹ آمدنی، مالیاتی پالیسی اور علاقائی و عالمی حالات بدستور اہم رہیں گے۔
