نیویارک: پاکستان اور گیٹس فاؤنڈیشن نے زرعی شعبے میں بہتر بیجوں، مویشیوں کی جینیاتی بہتری اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے استعمال کے لیے تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت وزیراعظم محمد شہباز شریف اور گیٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔
ملاقات میں وزیراعظم نے پاکستان میں زراعت سے متعلق حکومتی اصلاحات اور ترجیحات پر بریفنگ دی۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق بات چیت میں اختراع، بایوٹیکنالوجی، موسمیاتی مزاحمت، تحقیق اور کسانوں کی استعداد کار بڑھانے جیسے موضوعات شامل تھے۔ دونوں جانب سے اس بات پر غور کرنے پر آمادگی ظاہر کی گئی کہ بہتر بیجوں کی تیاری، لائیوسٹاک جینیٹکس اور نئی زرعی ٹیکنالوجیز کو اپنانے کے شعبوں میں عملی شراکت داری کیسے آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔
وزیراعظم نے گیٹس فاؤنڈیشن کے ساتھ پاکستان کے موجودہ تعاون کو صحت کے شعبے سے آگے بڑھا کر زراعت، ڈیجیٹل اختراع اور مصنوعی ذہانت تک وسعت دینے میں دلچسپی ظاہر کی۔ فاؤنڈیشن پہلے ہی پاکستان میں پولیو کے خاتمے، ماں اور بچے کی صحت، غذائیت، حفاظتی ٹیکہ جات، ڈیجیٹائزیشن اور مالی شمولیت سمیت متعدد شعبوں میں کام کر رہی ہے۔ ملاقات میں اس موجودہ شراکت داری کو نئے ترقیاتی شعبوں تک لے جانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پولیو کے خاتمے کا موضوع بھی ملاقات کا اہم حصہ رہا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا اور اس مقصد کے لیے گیٹس فاؤنڈیشن کی طویل مدتی معاونت کو سراہا۔ بل گیٹس نے بھی پولیو کے خاتمے کو آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا اور ویکسینیشن پروگرام کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں فریقوں نے رابطہ جاری رکھنے اور سماجی و اقتصادی شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے بل گیٹس کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ اس ملاقات کا فوری نتیجہ کسی مخصوص مالی پیکج یا باضابطہ زرعی منصوبے کے اعلان کی صورت میں سامنے نہیں آیا؛ فی الحال دونوں جانب سے تعاون کے ممکنہ شعبوں کی نشاندہی اور آئندہ رابطوں پر اتفاق کیا گیا ہے۔

