اسلام آباد میں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ایک مباحثے میں ماہرین نے پاکستان میں صنفی لحاظ سے ذمہ دار بجٹ سازی کی پیش رفت اور باقی رہ جانے والے معاشی و سماجی خلا پر تفصیلی گفتگو کی۔ نشست میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق خواتین ملکی آبادی کا تقریباً 49.3 فیصد ہیں، لیکن تعلیم، روزگار، اثاثوں کی ملکیت اور پالیسی سازی میں ان کی عملی شرکت آبادی کے تناسب سے کہیں کم ہے۔ ماہرین کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ بجٹ میں خواتین سے متعلق رقوم مختص کرنا اہم قدم ہے، مگر اصل کامیابی اس وقت ثابت ہو گی جب اخراجات کے نتائج تعلیم، صحت، تحفظ، روزگار اور آمدنی میں قابل پیمائش بہتری کی صورت میں سامنے آئیں گے۔
گفتگو میں بتایا گیا کہ گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس 2025 میں پاکستان 148 ممالک میں آخری درجے پر رہا اور مجموعی صنفی برابری کی سطح 56.7 فیصد بتائی گئی۔ نشست کے مطابق خواتین کی زمین کی ملکیت تقریباً 1.5 سے 2 فیصد، جبکہ لیبر فورس میں شرکت 22.7 سے 25 فیصد کے درمیان ہے۔ خواتین کی شرح خواندگی تقریباً 54 فیصد اور مردوں کی 73 فیصد بیان کی گئی۔ یہ اعداد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں: کم تعلیمی مواقع بہتر روزگار تک رسائی محدود کرتے ہیں، کم آمدنی اثاثے خریدنے کی صلاحیت گھٹاتی ہے اور محدود ملکیت خواتین کی مالی خود مختاری اور قرض تک رسائی کو متاثر کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ بجٹ میں خواتین پر مرکوز مختص رقوم ترقیاتی بجٹ میں قریب 8 فیصد اور جاری اخراجات میں 9 فیصد بتائی گئی ہیں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ صرف رقم کا حجم کافی معیار نہیں؛ ہر وزارت اور صوبے کے لیے واضح اہداف، مستفید ہونے والوں کی جنس کے لحاظ سے اعداد و شمار، اخراجات کی بروقت نگرانی اور سال کے اختتام پر نتیجہ خیز آڈٹ ضروری ہے۔ مثال کے طور پر کسی ہنرمندی پروگرام کی کامیابی صرف تربیت مکمل کرنے والی خواتین کی تعداد سے نہیں بلکہ چھ ماہ بعد روزگار، آمدنی اور کاروباری بقا سے ناپی جانی چاہیے۔
نشست میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ صنفی بجٹ سازی کو الگ تھلگ خواتین کے منصوبوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ٹرانسپورٹ، شہری منصوبہ بندی، ڈیجیٹل رسائی، زرعی معاونت، موسمیاتی موافقت اور چھوٹے کاروبار کی فنانسنگ جیسے عمومی شعبوں میں بھی خواتین کی ضروریات اور رکاوٹوں کو بجٹ کے آغاز ہی سے شامل کرنا ضروری ہے۔ محفوظ سفر، بچوں کی نگہداشت، شناختی دستاویزات، موبائل فون اور بینک اکاؤنٹ تک رسائی جیسے عوامل بظاہر بجٹ کی مختلف مدات ہیں، مگر خواتین کی معاشی شرکت پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔
ماہرین نے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان یکساں ڈیٹا معیار، پارلیمانی نگرانی اور شہری سماج کی شرکت بڑھانے کی سفارش کی۔ ان کے مطابق پاکستان نے صنفی بجٹ کی زبان اور فریم ورک اختیار کرنے میں اہم پیش رفت کی ہے، لیکن اگلا مرحلہ مختص رقم کو حقیقی نتائج سے جوڑنا ہے۔ مسلسل، قابل موازنہ اور عوامی طور پر دستیاب اعداد و شمار ہی یہ دکھا سکیں گے کہ پالیسی کے اعلانات خواتین کی روزمرہ زندگی، آمدنی اور اختیار میں کتنی تبدیلی لا رہے ہیں۔




