پاکستان ریلوے نے خانیوال میں ٹرین گارڈز اور لوکو پائلٹس کے لیے قائم رننگ رومز کی بہتری کا کام مکمل کر لیا ہے۔ محکمے کے مطابق راولپنڈی کے بعد خانیوال میں سہولتوں کی اپ گریڈیشن اس پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت طویل روٹس پر ڈیوٹی دینے والے عملیاتی عملے کو سفر کے درمیانی وقفے میں بہتر آرام، صفائی اور بنیادی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ رننگ روم عام مسافر سہولت نہیں بلکہ ریلوے کے اس عملے کے لیے مخصوص آرام گاہ ہوتی ہے جو ایک اسٹیشن پر ڈیوٹی ختم کر کے اگلی ذمہ داری سے پہلے مقررہ وقت گزارتا ہے۔
لوکو پائلٹ اور گارڈ ریلوے کی روزمرہ حفاظت کے اہم کردار ہیں۔ لوکو پائلٹ رفتار، سگنل، بریکنگ اور انجن کی کارکردگی کی نگرانی کرتا ہے، جبکہ گارڈ ٹرین کی مکمل ساخت، روانگی، راستے کی صورتحال اور ہنگامی رابطے کی ذمہ داری نبھاتا ہے۔ مسلسل توجہ، رات کی ڈیوٹی اور غیر معمولی اوقات میں کام کرنے کے باعث تھکاوٹ ایک عملی خطرہ بن سکتی ہے۔ مناسب نیند اور آرام صرف ملازم کی فلاح کا معاملہ نہیں بلکہ سگنل پر درست ردعمل، بروقت فیصلہ اور مسافروں کی حفاظت سے بھی براہ راست جڑا ہے۔
خانیوال ملک کے بڑے ریلوے جنکشنز میں شمار ہوتا ہے جہاں مختلف سمتوں سے مسافر اور مال گاڑیاں گزرتی ہیں۔ ایسے مرکز پر رننگ اسٹاف کی آمد و رفت زیادہ ہونے کی وجہ سے آرام گاہوں کی گنجائش، بستر، ہوا کی آمدورفت، صاف پانی، غسل خانوں، بجلی اور صفائی کا قابل اعتماد انتظام ضروری ہوتا ہے۔ اپ گریڈیشن کا عملی معیار صرف عمارت کی ظاہری مرمت نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ سہولت چوبیس گھنٹے فعال رہے، ریکارڈ کے مطابق صفائی ہو اور خرابی کی شکایت پر فوری کارروائی کی جا سکے۔
پاکستان ریلوے کو طویل عرصے سے پرانے ڈھانچے، محدود وسائل اور بڑھتی عملیاتی ضروریات کا سامنا ہے۔ اس پس منظر میں عملے کی آرام گاہوں پر خرچ نسبتاً چھوٹا منصوبہ دکھائی دے سکتا ہے، مگر حفاظت کے نظام میں انسانی کارکردگی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا بھر کے نقل و حمل کے ادارے ڈیوٹی اوقات، لازمی آرام اور تھکاوٹ کے انتظام کو حادثات سے بچاؤ کی پالیسی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں بھی رننگ رومز کی بہتری کو ڈیوٹی روسٹر، طبی نگرانی اور مناسب وقفوں کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔
راولپنڈی اور خانیوال کے بعد پروگرام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ دیگر مصروف جنکشنز کی ضرورت کا شفاف جائزہ لیا جائے اور ایک یکساں معیار مقرر ہو۔ عملے سے باقاعدہ رائے، سہولتوں کا معائنہ، استعمال کی گنجائش اور شکایات کے حل کا وقت رپورٹ کیا جائے تو اپ گریڈیشن کے اثرات بہتر طور پر جانچے جا سکتے ہیں۔ خانیوال کی بہتری ایک مفید قدم ہے، تاہم پائیدار نتیجے کے لیے مرمت کا مستقل بجٹ اور روزانہ انتظام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔




