قومی اسمبلی، سینیٹ اور خیبر پختونخوا اسمبلی کی قیادت کے درمیان الگ الگ ملاقاتوں میں وفاقی اور صوبائی قانون ساز اداروں کے رابطے کو مضبوط بنانے، پارلیمانی تجربات بانٹنے اور عوامی مسائل پر تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اور چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سے ملاقاتیں کیں۔ دونوں نشستوں میں قانون سازی، قومی سیاسی صورت حال، علاقائی پیش رفت اور باہمی دلچسپی کے امور زیر گفتگو آئے۔

ایاز صادق سے ملاقات میں قومی، صوبائی اور دیگر قانون ساز اداروں کے درمیان روابط اور تعاون بڑھانے کو مرکزی موضوع بنایا گیا۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے کہا کہ پارلیمانی اداروں کے درمیان باقاعدہ رابطہ اور تجربات کا تبادلہ قانون سازی کے معیار اور ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ ملاقات میں اسپیکرز کانفرنس کی اہمیت اور ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے میں بلاامتیاز طرز عمل پر بھی بات ہوئی۔ دونوں جانب سے جمہوری اقدار، اداروں کی مضبوطی اور عوامی مسائل کے حل میں پارلیمان کے کردار کو نمایاں کیا گیا۔

ایاز صادق نے بعد میں گلگت بلتستان اسمبلی کے اسپیکر عمران ندیم سے بھی ملاقات کی اور انہیں ذمہ داری سنبھالنے پر مبارک باد دی۔ اس گفتگو میں بھی مختلف قانون ساز اداروں کے درمیان تعاون اور پارلیمانی طریقہ کار کے تجربات بانٹنے پر زور رہا۔ گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے ساتھ رابطہ وفاقی پارلیمان اور مختلف خطوں کے منتخب اداروں کے درمیان عملی مسائل، کمیٹی نظام اور قانون سازی کے طریقوں پر گفتگو کا اضافی راستہ فراہم کرتا ہے۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سے بابر سلیم سواتی کی ملاقات میں سینیٹ کے وفاقی اکائیوں کے نمائندہ ایوان ہونے پر خاص توجہ دی گئی۔ گیلانی نے صوبائی مفادات کے تحفظ، وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطے اور اختلافی امور کے حل کے لیے مکالمے اور اتفاق رائے کو اہم قرار دیا۔ گفتگو میں سیاسی استحکام، جمہوری تسلسل اور آئینی اصولوں کی پاسداری کو مضبوط پارلیمانی نظام سے جوڑا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اداروں کے درمیان رابطہ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

پاکستان کے پارلیمانی ڈھانچے میں قومی اسمبلی آبادی کی بنیاد پر عوامی نمائندگی کرتی ہے، جبکہ سینیٹ وفاقی اکائیوں کو نسبتاً مساوی آواز دینے کے لیے قائم ہے۔ صوبائی اسمبلیاں اپنے آئینی دائرۂ کار میں قانون سازی اور صوبائی حکومتوں کی نگرانی کرتی ہیں۔ ان اداروں کے قواعد، کمیٹیوں اور انتظامی تجربات مختلف ہو سکتے ہیں، مگر بجٹ نگرانی، عوامی درخواستوں، ارکان کی حاضری، کمیٹی تحقیق اور قانون سازی کے معیار جیسے کئی امور میں ایک دوسرے سے سیکھنے کی گنجائش موجود رہتی ہے۔

اس نوعیت کی ملاقاتوں کا حقیقی فائدہ اسی وقت سامنے آتا ہے جب عمومی اتفاق کو قابل پیمائش تعاون میں بدلا جائے۔ مشترکہ تربیت، کمیٹی سطح کے روابط، تحقیقاتی مواد کا تبادلہ، قانون سازی کے مسودوں پر تکنیکی مشاورت اور اسپیکرز کانفرنس کے فیصلوں کی پیروی ایسے عملی راستے ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح پروڈکشن آرڈر جیسے پارلیمانی اختیارات میں واضح، یکساں اور قواعد پر مبنی طریقہ کار سیاسی اختلاف کے باوجود ادارہ جاتی اعتماد برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

موجودہ ملاقاتوں نے رابطہ بڑھانے کی سیاسی اور ادارہ جاتی خواہش واضح کی ہے؛ اگلا مرحلہ یہ دیکھنا ہو گا کہ یہ رابطہ کتنی باقاعدگی سے جاری رہتا ہے اور اس کے نتیجے میں قانون سازی، کمیٹی نگرانی یا وفاقی و صوبائی مسائل کے حل میں کیا عملی پیش رفت سامنے آتی ہے۔ پارلیمانی تعاون کا حتمی پیمانہ بیانات نہیں بلکہ عوامی مسئلے پر بہتر بحث، شفاف کارروائی اور قانون کے معیار میں نظر آنے والی بہتری ہو گی۔