وفاقی حکومت موسمِ سرما میں گیس کی طلب پوری کرنے کے لیے مہنگی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمد سے متعلق بڑے مالی فیصلے پر غور کر رہی ہے۔ دی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ درآمدی کارگو کے انتظام میں مزید تاخیر ہوئی تو گھریلو صارفین کے لیے دستیاب گیس برقرار رکھنے کی خاطر صنعت، بجلی، کھاد، سی این جی اور سیمنٹ سمیت مختلف شعبوں کی سپلائی محدود یا منقطع کرنا پڑ سکتی ہے۔

پاکستان کو سردیوں میں گیس کی طلب بڑھنے اور مقامی پیداوار میں کمی کے باعث ہر سال اضافی دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ رواں موسم میں صورتحال اس لیے بھی پیچیدہ ہے کہ قطر سے طویل مدتی معاہدوں کے تحت آنے والی ایل این جی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں حکومت کو اسپاٹ مارکیٹ سے نسبتاً مہنگے کارگو خریدنے کے امکان کا جائزہ لینا پڑ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نومبر 2026 سے فروری 2027 کے دوران اسپاٹ مارکیٹ سے متعدد ایل این جی کارگو حاصل کرنے کی ضرورت زیر غور ہے۔ اس سے قبل بھی حکام نے سردیوں کے لیے دس اسپاٹ کارگو خریدنے کی تیاری کی تھی، جبکہ قطر سے طے شدہ کارگو الگ ہیں۔ عالمی منڈی میں قیمتوں اور خطے کی سپلائی صورتحال کے باعث مجموعی درآمدی بل ایک اہم پالیسی مسئلہ بن گیا ہے۔

یہ معاملہ صرف توانائی کی دستیابی تک محدود نہیں۔ مہنگی درآمدی گیس بجلی، کھاد، صنعتی پیداوار اور سرکاری مالیات پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ دوسری طرف اگر مطلوبہ مقدار میں ایل این جی نہ خریدی گئی تو صنعتی سرگرمی اور روزگار پر گیس لوڈ مینجمنٹ کے اثرات پڑنے کا خطرہ موجود ہے۔ اسی توازن کی وجہ سے حکومت کو درآمدی لاگت اور معاشی نقصان کے ممکنہ تقابل پر فیصلہ کرنا ہوگا۔

پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے بیان کردہ خدشات کسی حتمی گیس منقطع کرنے کے حکم کے مترادف نہیں ہیں بلکہ فیصلہ سازی کے لیے پیش کیے گئے خطرات ہیں۔ اسی طرح تقریباً دو ارب ڈالر کی ممکنہ لاگت بھی زیر غور خریداری اور عالمی قیمتوں سے منسلک ہے؛ حتمی رقم کارگو کی تعداد، قیمت اور معاہدوں کی شرائط کے مطابق بدل سکتی ہے۔

حکومت کی حتمی منظوری اور خریداری کے طریقۂ کار کے بعد واضح ہوگا کہ سردیوں کے لیے کتنی ایل این جی درآمد کی جائے گی اور اس کا مالی بوجھ کس طرح سنبھالا جائے گا۔ فی الحال حکام کے سامنے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ گھریلو صارفین کی ضروریات، صنعتی سرگرمی اور درآمدی بل کے درمیان قابلِ عمل توازن قائم رکھا جائے۔