پاکستان میں اکتوبر 2026 کی سالانہ مہنگائی تقریباً 10 فیصد رہنے کا تخمینہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد اسٹیٹ بینک کی آئندہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود برقرار رکھنے یا تبدیل کرنے سے متعلق مارکیٹ کی آرا تقسیم دکھائی دے رہی ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ٹاپ لائن سکیورٹیز نے اپنے تخمینے میں مالی سال 2027 کے پہلے چار ماہ کی اوسط مہنگائی 10.2 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔

یہ اوسط گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ریکارڈ کی گئی تقریباً 4.8 فیصد مہنگائی کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر کا متوقع عدد حکومت کے مالی سال 2027 کے لیے 8.9 فیصد کے اوسط افراطِ زر کے اندازے سے بھی بلند ہے۔ تاہم یہ اعداد ابھی تخمینے ہیں؛ حتمی صارف قیمت اشاریہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے سرکاری اجراء کے بعد ہی طے ہوگا۔

مہنگائی میں اضافے کی توقع نے مانیٹری پالیسی کے بارے میں سرمایہ کاروں اور تجزیہ کاروں کی پیشگوئیوں کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بلند افراطِ زر عام طور پر شرح سود میں فوری کمی کی گنجائش محدود کرتا ہے، جبکہ کمزور معاشی سرگرمی یا مالی حالات میں بہتری شرح میں نرمی کے حق میں دلیل بن سکتی ہے۔ اسٹیٹ بینک حتمی فیصلہ کرتے وقت مہنگائی کے ساتھ بیرونی کھاتے، زرمبادلہ، مالیاتی پالیسی اور مستقبل کی قیمتوں کے خطرات کو بھی دیکھتا ہے۔

رپورٹ میں مختلف تجزیہ کاروں کی توقعات میں فرق کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مارکیٹ کسی ایک نتیجے پر متفق نہیں۔ شرح سود میں تبدیلی سے قرض لینے کی لاگت، کاروباری سرمایہ کاری، بینکاری شعبے کے منافع اور اسٹاک مارکیٹ سمیت متعدد شعبوں پر اثر پڑتا ہے، اس لیے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس سرمایہ کاروں کے لیے اہم ہوگا۔

مہنگائی کے حالیہ رجحان میں خوراک، توانائی، ایندھن اور دیگر انتظامی قیمتوں کا کردار بھی اہم رہتا ہے۔ اگر اکتوبر کا حتمی عدد تخمینے کے قریب آتا ہے تو مالی سال کے باقی حصے میں افراطِ زر کو سرکاری ہدف کے قریب لانے کے لیے قیمتوں کے بنیادی دباؤ اور عارضی عوامل میں فرق کرنا ضروری ہوگا۔

فی الحال 10 فیصد مہنگائی کا عدد نجی شعبے کا تخمینہ ہے اور اسے سرکاری نتیجہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اسی طرح پالیسی ریٹ کے بارے میں کسی تبدیلی کو اسٹیٹ بینک کے باضابطہ اعلان سے پہلے حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ آئندہ سرکاری مہنگائی ڈیٹا اور مانیٹری پالیسی بیان اس بحث کی سمت واضح کریں گے۔