پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر ریمنڈاس کاروبلس نے کہا ہے کہ یورپی منڈی میں جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس، یعنی جی ایس پی پلس، کے نئے مرحلے سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور متعلقہ بین الاقوامی وعدوں کے نفاذ میں بہتری دکھانا ہوگی۔ انہوں نے یہ بات پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کی قیادت سے ملاقات میں کہی، جہاں پاکستان کی یورپی یونین کے ساتھ تجارت اور ٹیکسٹائل برآمدات پر گفتگو ہوئی۔
ملاقات میں پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس سہولت کے آئندہ مرحلے، یورپی یونین کی 2023 سے 2025 کی مدت سے متعلق جائزہ رپورٹ اور ان شعبوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا جن میں مزید پیش رفت درکار سمجھی جا رہی ہے۔ سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی رعایتیں صرف برآمدی کارکردگی سے نہیں بلکہ متعلقہ بین الاقوامی کنونشنز اور حکمرانی کے معیارات سے بھی منسلک ہیں۔
یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈیوں میں شامل ہے اور دستیاب جائزے کے مطابق پاکستان کی یورپی یونین کو ہونے والی برآمدات میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا حصہ تقریباً 70 سے 76 فیصد ہے۔ اسی وجہ سے جی ایس پی پلس کی شرائط میں تبدیلی یا سہولت کے تسلسل کا براہ راست اثر پاکستان کی ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل صنعت، روزگار اور زرمبادلہ آمدن پر پڑ سکتا ہے۔
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے ملاقات میں صنعت کے نقطۂ نظر سے یورپی منڈی تک ترجیحی رسائی کی اہمیت اجاگر کی۔ برآمد کنندگان کے لیے ٹیرف رعایتیں عالمی منڈی میں قیمت کے مقابلے کو بہتر بناتی ہیں، لیکن یورپی ضابطوں میں ماحولیات، محنت کے حقوق، سپلائی چین کی نگرانی اور دیگر پائیداری تقاضوں کی اہمیت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
سفیر کے ریمارکس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کی جی ایس پی پلس حیثیت فوری طور پر ختم یا معطل کر دی گئی ہے۔ یہ آئندہ انتظام کے لیے تعمیل اور اصلاحات کی اہمیت پر زور ہے۔ کسی حتمی فیصلے کا انحصار یورپی یونین کے باضابطہ جائزے، قانونی عمل اور پاکستان کی جانب سے مطلوبہ کنونشنز پر عمل درآمد کی مجموعی جانچ پر ہوگا۔
پاکستان کے لیے اس معاملے میں تجارتی اور حکمرانی دونوں پہلو اہم ہیں۔ ایک طرف یورپی منڈی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے بنیادی برآمدی منزل ہے، دوسری جانب جی ایس پی پلس فریم ورک انسانی حقوق، مزدور حقوق، ماحولیات اور اچھی حکمرانی سے متعلق ذمہ داریوں کو تجارت کے ساتھ جوڑتا ہے۔ آنے والے جائزوں میں انہی شعبوں کی پیش رفت پاکستان کی ترجیحی تجارتی رسائی کے مستقبل کے لیے اہم ہوگی۔

