پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ ستمبر 2026 میں سرپلس میں آگیا ہے، جس سے ملک کے بیرونی کھاتے کی صورتحال میں ماہانہ بنیاد پر بہتری ظاہر ہوتی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق بیرونی ادائیگیوں اور وصولیوں کے مجموعی توازن نے ستمبر میں مثبت رخ اختیار کیا۔
کرنٹ اکاؤنٹ میں اشیا اور خدمات کی تجارت، بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر، آمدنی کی ادائیگیاں اور دیگر جاری بیرونی لین دین شامل ہوتے ہیں۔ اس کھاتے کا سرپلس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ متعلقہ مدت میں ملک کی جاری بیرونی وصولیاں ادائیگیوں سے زیادہ رہیں، تاہم ایک ماہ کا نتیجہ پورے مالی سال کے رجحان کا حتمی پیمانہ نہیں ہوتا۔
پاکستان کے بیرونی کھاتے میں حالیہ برسوں کے دوران درآمدی طلب، عالمی توانائی قیمتوں، برآمدی آمدن، ترسیلات زر اور قرضوں کی ادائیگیوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ستمبر کے اعداد و شمار میں بہتری زرمبادلہ کی مجموعی ضرورت اور مارکیٹ کے اعتماد کے لیے مثبت اشارہ سمجھی جا سکتی ہے، لیکن اس کے پائیدار رہنے کے لیے برآمدات اور ترسیلات میں تسلسل اور درآمدی بل کے قابلِ انتظام رہنے کی ضرورت ہوگی۔
ترسیلات زر پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ کا ایک اہم سہارا ہیں کیونکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بھیجی گئی رقوم تجارتی خسارے کے ایک حصے کو پورا کرتی ہیں۔ اسی طرح خدمات کی برآمدات، خصوصاً انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر پیشہ ورانہ خدمات، بیرونی آمدن بڑھانے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ دوسری جانب تیل، مشینری اور صنعتی خام مال کی درآمد میں اضافہ بیرونی ادائیگیوں کو بڑھا سکتا ہے۔
کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کو زرمبادلہ کے ذخائر سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔ ذخائر پر قرضوں کی وصولی اور ادائیگی، سرمایہ کاری کے بہاؤ اور مرکزی بینک کی مارکیٹ کارروائیوں سمیت دوسرے عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے ستمبر کا مثبت کرنٹ اکاؤنٹ نتیجہ بیرونی شعبے کی ایک اہم مگر واحد تصویر نہیں ہے۔
آئندہ مہینوں میں اس رجحان کا دارومدار عالمی اجناس کی قیمتوں، ملکی درآمدی طلب، برآمدی آرڈرز، ترسیلات زر اور بیرونی قرض ادائیگیوں پر ہوگا۔ پالیسی سازوں کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ بیرونی کھاتے میں استحکام کو ایسی معاشی سرگرمی کے ساتھ برقرار رکھا جائے جو صنعت اور ترقی کے لیے ضروری درآمدات کو بھی متاثر نہ کرے۔

