اسلام آباد: مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کا خلیجی شراکت دار ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ 26.35 فیصد کم ہو کر 2.85 ارب ڈالر رہ گیا، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 3.87 ارب ڈالر تھا۔ اس بہتری کی بنیادی وجہ درآمدی ادائیگیوں میں نمایاں کمی اور برآمدات میں معتدل اضافہ رہا۔
اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران متعلقہ خلیجی اور مشرق وسطیٰ کی منڈیوں کو پاکستان کی برآمدات 10.96 فیصد بڑھ کر 864.878 ملین ڈالر ہوگئیں، جبکہ درآمدات 20.02 فیصد کم ہو کر 3.717 ارب ڈالر رہیں۔ متحدہ عرب امارات ان ممالک کو پاکستانی برآمدات میں سب سے بڑا حصہ رکھتا ہے، جبکہ سعودی عرب دوسرے نمبر پر رہا۔
درآمدی جانب سب سے نمایاں کمی کویت اور قطر سے ادائیگیوں میں دیکھی گئی۔ کویت سے درآمدات میں 97 فیصد سے زیادہ اور قطر سے تقریباً 72.5 فیصد کمی رپورٹ ہوئی، جبکہ عمان سے درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ سعودی عرب سے درآمدات میں بھی کمی آئی اور متحدہ عرب امارات سے درآمدی ادائیگیاں گزشتہ سال کے مقابلے میں نیچے رہیں۔
تجارتی خسارے میں کمی بیرونی کھاتے کے لیے مثبت اشارہ ہوسکتی ہے، تاہم اعدادوشمار کو خطے کی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور توانائی کی تجارت کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ پاکستان تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کے لیے خلیجی ممالک پر نمایاں انحصار رکھتا ہے، اس لیے درآمدات میں تیز کمی ہمیشہ صنعتی یا معاشی سرگرمی میں بہتری کی علامت نہیں ہوتی۔ آئندہ سہ ماہیوں میں توانائی قیمتیں، بحری نقل و حمل، علاقائی کشیدگی اور برآمدی طلب اس تجارتی توازن کی سمت متعین کریں گے۔

