لاہور: پاکستان میں ہاتھ سے بنے قالینوں کی 42ویں عالمی نمائش کے لیے 50 سے زیادہ غیر ملکی خریدار رجسٹریشن کرا چکے ہیں، جبکہ منتظمین کو توقع ہے کہ نمائش تک یہ تعداد 100 سے تجاوز کر سکتی ہے۔ دی نیشن کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے اس پیش رفت کو برآمدی آرڈرز اور نئے خریداروں تک رسائی کے لیے حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں ایسوسی ایشن کے حوالے سے بتایا گیا کہ نمائش کی تیاریوں پر کام جاری ہے اور بیرون ملک تجارتی حلقوں سے رابطے بڑھائے جا رہے ہیں۔ ہاتھ سے بنے پاکستانی قالین اپنی بناوٹ، رنگوں، روایتی ڈیزائن اور کاریگری کے باعث ایک الگ برآمدی شناخت رکھتے ہیں۔ نمائش کا بنیادی مقصد تیار مصنوعات دکھانے کے ساتھ خریداروں، برآمد کنندگان اور پیداواری حلقوں کے درمیان براہ راست کاروباری روابط پیدا کرنا ہے۔
ایسوسی ایشن نے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے ساتھ تعاون کا بھی ذکر کیا۔ اس نوعیت کے تجارتی اجتماع میں خریداروں کی پیشگی رجسٹریشن اہم اشارہ ہوتی ہے، مگر رجسٹریشن خود حتمی شرکت یا برآمدی معاہدے کی ضمانت نہیں۔ اصل تجارتی اثر کا اندازہ نمائش میں حاضری، کاروباری ملاقاتوں، نمونوں کی منظوری اور بعد میں ملنے والے قابل عمل آرڈرز سے ہوگا۔
قالین سازی کی صنعت کا ایک بڑا حصہ ہنرمند افرادی قوت اور چھوٹے پیداواری مراکز سے جڑا ہوتا ہے۔ اگر نئے خریدار مستقل آرڈرز دیتے ہیں تو اس کے اثرات صرف برآمدی آمدن تک محدود نہیں رہتے بلکہ بنائی، رنگائی، ڈیزائن، خام مال، پیکنگ اور نقل و حمل سے وابستہ سرگرمیوں تک پھیل سکتے ہیں۔ تاہم دستیاب خبر میں کسی متوقع برآمدی مالیت یا طے شدہ آرڈر کا عدد نہیں دیا گیا، اس لیے ایسے کسی نتیجے کا دعویٰ قبل از وقت ہوگا۔
نمائش کے منتظمین کے لیے معیار، بروقت ترسیل، بین الاقوامی مارکیٹ کے تقاضے اور مصنوعات کی قابل تصدیق اصل اہم رہیں گے۔ غیر ملکی خریداروں کی تعداد بڑھنے سے پاکستانی برآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کا وسیع انتخاب پیش کرنے کا موقع ملے گا، جبکہ مسابقتی قیمت اور مسلسل سپلائی کسی بھی ممکنہ معاہدے کو پائیدار بنانے میں کردار ادا کریں گے۔
یہ رپورٹ دی نیشن میں شائع ہونے والی براہ راست خبر اور اس میں منسوب ایسوسی ایشن کے مؤقف پر مبنی ہے۔ 50 سے زائد رجسٹریشن کو موجودہ پیش رفت اور 100 سے زائد کو منتظمین کی توقع کے طور پر الگ رکھا گیا ہے؛ کسی حتمی شرکت، آرڈر یا برآمدی مالیت کا غیر مصدقہ اضافہ نہیں کیا گیا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




