نیویارک: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان کے ہیپاٹائٹس سی خاتمہ پروگرام کی سست پیش رفت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کے ساتھ عمل درآمد کے مسائل اٹھانے اور پروگرام کی رفتار تیز کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ معاملہ نیویارک میں ایبٹ کے فارماسیوٹیکل ڈویژن کے ایک نمائندے سے ملاقات کے دوران زیر بحث آیا۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری بیان کے مطابق پروگرام کے لیے تقریباً 30 لاکھ تشخیصی ٹیسٹ خریدے گئے، مگر ان میں سے صرف لگ بھگ ایک لاکھ استعمال ہو سکے ہیں۔ وزیر خزانہ نے اس کم استعمال کو قیادت میں تبدیلی، ناکافی پراجیکٹ مینجمنٹ اور عوامی آگاہی کی محدود سطح سے منسلک کیا۔ بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ باقی ٹیسٹ کس مقام پر ذخیرہ ہیں یا ان کے استعمال کے لیے نئی صوبائی یا وفاقی تقسیم کا تفصیلی شیڈول کیا ہوگا۔

ملاقات میں ایبٹ کی جانب سے مصر میں بڑے پیمانے کے ہیپاٹائٹس اسکریننگ پروگرام کے تجربے کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی تکنیکی معاونت کو بھی سراہا گیا۔ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے وسیع پیمانے پر اسکریننگ، تشخیص اور علاج تک بروقت رسائی بنیادی اجزا ہیں، اس لیے خریدے گئے ٹیسٹوں کا کم استعمال پروگرام کی انتظامی رفتار اور فیلڈ سطح پر نفاذ کے بارے میں اہم سوال اٹھاتا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق گفتگو صرف اسکریننگ پروگرام تک محدود نہیں رہی۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی ریگولیٹری استعداد بہتر بنانے، فارماسیوٹیکل برآمدات کو متنوع بنانے، ایبٹ کے آنکولوجی علاج سے متعلق منصوبوں اور بعض ادویات کی قیمتوں کے زیر التوا ہارڈشپ کیسز پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ قیمتوں میں استطاعت، کاروباری پائیداری اور دوا کی مسلسل دستیابی کے درمیان توازن ضروری ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ وہ ہیپاٹائٹس سی خاتمہ پروگرام کے عملی مسائل متعلقہ پاکستانی اداروں کے سامنے رکھیں گے تاکہ خریدے گئے وسائل کو تیزی سے استعمال میں لایا جا سکے۔ ریڈیو پاکستان نے بھی ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فریقین نے پروگرام کے نفاذ اور وسیع تر فارماسیوٹیکل شعبے سے متعلق امور پر گفتگو کی۔

سرکاری اعلامیہ کسی نئے مالی پیکیج، نئی خریداری یا پروگرام کی نئی آخری تاریخ کا اعلان نہیں کرتا۔ اس مرحلے پر اہم پیش رفت یہ ہے کہ وفاقی سطح پر موجود تشخیصی وسائل کے کم استعمال کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور عمل درآمد میں رکاوٹوں کو دور کرنے کا معاملہ متعلقہ حکام کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔