اسلام آباد: حکومت نے مالی سال 2026-27 کے دوران پن بجلی کی پیداواری صلاحیت میں 1,960 میگاواٹ اضافے کا شیڈول تیار کیا ہے۔ دی نیشن کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق واپڈا کے پانچ اندراجات پر مشتمل یہ اضافہ اس مدت میں منصوبہ بند مجموعی 3,787.24 میگاواٹ نئی بجلی صلاحیت کا تقریباً 51.8 فیصد بنتا ہے۔ یہ اعداد کمیشننگ شیڈول کی نمائندگی کرتے ہیں؛ حقیقی پیداوار پانی کی دستیابی، آزمائش اور نظام سے کامیاب اتصال پر منحصر ہوگی۔
رپورٹ میں تربیلا کے پانچویں توسیعی منصوبے کے تین یونٹس کو سب سے بڑا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ ہر یونٹ کی صلاحیت 510 میگاواٹ بتائی گئی، یوں مجموعی صلاحیت 1,530 میگاواٹ بنتی ہے۔ شیڈول کے مطابق ان یونٹس کو بالترتیب ستمبر، نومبر اور دسمبر 2026 میں کمیشن کیا جانا ہے۔ ایک ہی منصوبے کے یونٹس مختلف تاریخوں پر آنے سے نظام میں صلاحیت مرحلہ وار شامل ہوگی۔
داسو پن بجلی منصوبے کے پہلے 360 میگاواٹ یونٹ کو مئی 2027 میں نظام میں لانے کا ہدف بھی دیا گیا ہے۔ باقی منصوبہ بند صلاحیت دوسرے واپڈا اندراجات سے منسلک ہے۔ کمیشننگ کی تاریخ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تعمیر، آلات کی تنصیب، آزمائشی پیداوار اور گرڈ سے ہم آہنگی کے مراحل مقررہ وقت تک مکمل کیے جائیں؛ کسی مرحلے میں تاخیر پورے شیڈول کو متاثر کر سکتی ہے۔
پن بجلی ایندھن درآمد کیے بغیر پیدا ہوتی ہے اور طویل مدت میں نظام کو کم کاربن بجلی فراہم کر سکتی ہے، مگر اس کی دستیابی دریا کے بہاؤ، ذخائر، موسمی حالات اور آپریشنل انتظام سے جڑی ہوتی ہے۔ نصب شدہ میگاواٹ کو سال بھر یکساں حاصل ہونے والی توانائی سمجھنا درست نہیں۔ بجلی کے منصوبہ سازوں کو پن بجلی کے ساتھ ترسیلی صلاحیت، طلب کے اوقات اور دوسرے ذرائع کا توازن بھی برقرار رکھنا پڑتا ہے۔
1,960 میگاواٹ کا اضافہ اگر مقررہ مدت میں مکمل ہو جاتا ہے تو نئے مالی سال کی پیداواری ساخت میں پن بجلی کا نمایاں حصہ ہوگا۔ صارفین پر اثر کا تعین صرف نئی صلاحیت سے نہیں بلکہ مالی لاگت، قرض، نظامی نقصانات، ترسیلی رکاوٹوں اور بجلی خریداری کے پورے ڈھانچے سے ہوگا۔ دستیاب خبر نے نرخوں میں فوری کمی یا کسی مخصوص صارف فائدے کا دعویٰ نہیں کیا۔
یہ رپورٹ دی نیشن میں درج سرکاری کمیشننگ شیڈول کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ 1,960 میگاواٹ کو منصوبہ بند صلاحیت، 1,530 میگاواٹ کو تربیلا کے تین یونٹس اور 360 میگاواٹ کو داسو کے پہلے یونٹ کے طور پر الگ بیان کیا گیا ہے؛ اسے پہلے سے مکمل پیداوار قرار نہیں دیا گیا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




