اسلام آباد میں پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان جاری پروگراموں کے اگلے جائزوں پر باضابطہ بات چیت شروع ہوگئی ہے۔ وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کے دورۂ پاکستان پر موجود اسٹاف مشن کے ساتھ ابتدائی اجلاس کیا۔ مشن کی قیادت آئیوا پیٹرووا کر رہی ہیں۔
مذاکرات کا بنیادی دائرہ پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی، یعنی ای ایف ایف، کے چوتھے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی، یعنی آر ایس ایف، کے تیسرے جائزے پر مشتمل ہے۔ یہ جائزے پاکستان کی معاشی کارکردگی، اصلاحاتی اقدامات اور پروگرام کے تحت طے شدہ اہداف پر پیش رفت کا احاطہ کرتے ہیں۔
ڈان کے مطابق وزیر خزانہ نے اجلاس میں تازہ میکرو اکنامک اشاریوں، پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور سرمایہ کاری کے مجموعی ماحول پر بریفنگ دی۔ بات چیت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے میں جاری ایران تنازع کے باعث عالمی اور علاقائی معاشی حالات بھی دباؤ کا شکار ہیں، اس لیے حکام کو بیرونی خطرات اور ملکی اصلاحاتی ضروریات دونوں پر گفتگو کرنا پڑ رہی ہے۔
آئی ایم ایف کا مشن ستمبر کے تیسرے ہفتے سے پاکستان میں موجود ہے اور اس نے اسلام آباد میں باضابطہ جائزہ مذاکرات سے قبل کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ بھی رابطے کیے۔ موجودہ پروگرام 37 ماہ پر محیط ہے اور اس کا مقصد مالی نظم، ساختی اصلاحات اور پائیدار معاشی استحکام کی سمت پیش رفت کو سہارا دینا ہے۔
اس جائزے کی کامیاب تکمیل کی صورت میں پاکستان تقریباً ایک ارب ڈالر ای ایف ایف اور مزید تقریباً 20 کروڑ ڈالر آر ایس ایف کے تحت حاصل کرنے کا اہل ہوسکتا ہے۔ تاہم یہ رقم جائزوں کی تکمیل اور متعلقہ منظوریوں سے مشروط ہے، اس لیے مذاکرات کے آغاز کو خودکار طور پر قسط کی منظوری نہیں سمجھا جا سکتا۔ دونوں فریق آئندہ دنوں میں مالیاتی، محصولات، اصلاحات اور دیگر پروگرام اہداف پر تفصیلی تکنیکی بات چیت جاری رکھیں گے۔

