اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مشن نے پاکستانی حکام کے ساتھ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے آئندہ جائزوں پر مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق مشن کی قیادت ایوا پیٹرووا کر رہی ہیں اور بات چیت کے ساتھ آئی ایم ایف کی آرٹیکل IV مشاورت بھی جاری ہے۔
پاکستان میں آئی ایم ایف کے ریزیڈنٹ نمائندے ماہر بنیجی نے تصدیق کی کہ ایوا پیٹرووا کی سربراہی میں ٹیم پاکستانی حکام کے ساتھ ای ایف ایف اور آر ایس ایف کے جائزوں کے علاوہ آرٹیکل IV کنسلٹیشن پر بھی بات کر رہی ہے۔ موجودہ مرحلہ مذاکرات کا آغاز ہے؛ کسی نئے اسٹاف لیول معاہدے یا فنڈز کے اجرا کو ابھی حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔
پاکستان کا موجودہ ای ایف ایف پروگرام ستمبر 2024 کے آخری ہفتے میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے منظور کیا تھا۔ اس 37 ماہ کے پروگرام کی مالیت تقریباً 7 ارب ڈالر، یا 5.32 ارب ایس ڈی آر، ہے۔ پاکستان نے اکتوبر 2024 میں آر ایس ایف انتظام کے لیے باضابطہ دلچسپی ظاہر کی تھی، جبکہ مارچ 2025 میں تقریباً 1.3 ارب ڈالر کے 28 ماہ کے آر ایس ایف پروگرام پر اسٹاف لیول معاہدہ ہوا تھا۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ مذاکرات ای ایف ایف کے چوتھے جائزے اور آر ایس ایف کے تیسرے جائزے سے متعلق ہیں۔ اگر آئی ایم ایف عملہ اور پاکستانی حکام ان جائزوں پر اسٹاف لیول معاہدہ کر لیتے ہیں تو اسے حتمی منظوری کے لیے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ بورڈ کی منظوری کی صورت میں پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت تقریباً 20 کروڑ ڈالر تک رسائی مل سکتی ہے۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق پاکستان دونوں انتظامات کے تحت اب تک مجموعی طور پر 4.8 ارب ڈالر حاصل کر چکا ہے۔ آئندہ رقوم کا اجرا مذاکرات، پروگرام کی شرائط کے جائزے، اسٹاف لیول معاہدے اور پھر ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو جائزہ مذاکرات کے باضابطہ آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ نئی قسط کی منظوری یا اجرا کے طور پر۔

