دبئی: ویمنز ایشیا کپ کے اہم گروپ میچ میں بھارت نے پاکستان کو سات وکٹ سے شکست دے دی۔ ڈان اسپورٹ کے مطابق پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن پوری ٹیم 55 رنز پر آؤٹ ہوگئی، جو پاکستان خواتین ٹیم کا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کم ترین مجموعہ ہے۔ بھارت نے مطلوبہ ہدف تین وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔

پاکستان کی اننگز کا آغاز نسبتاً محتاط انداز میں ہوا اور منیبہ علی اور شوال ذوالفقار نے پہلی وکٹ کے لیے 27 رنز جوڑے۔ منیبہ 13 رنز بنا کر آؤٹ ہوئیں، جس کے بعد پاکستانی بیٹنگ تیزی سے دباؤ میں آگئی۔ بھارتی اسپنر شری چرانی نے اپنے ابتدائی اوور ہی میں گل فیروزہ اور شوال ذوالفقار کو آؤٹ کیا اور پھر عائشہ ظفر کی وکٹ لے کر پاکستان کے مڈل آرڈر کو شدید نقصان پہنچایا۔

پاکستان کی کپتان فاطمہ ثنا بغیر رن بنائے آؤٹ ہوئیں جبکہ باقی بلے باز بھی بڑی شراکت قائم نہ کر سکے۔ ٹیم 55 رنز پر سمٹ گئی۔ شری چرانی نے چار اوورز میں سات رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں، جبکہ پریما راوت نے بھی تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ بھارتی باؤلرز نے پاکستان کو مسلسل دباؤ میں رکھا اور رنز بنانے کے مواقع محدود کر دیے۔

ہدف کے تعاقب میں بھارت کو فاطمہ ثنا نے تین وکٹیں لے کر کچھ مزاحمت پیش کی۔ انہوں نے شفیلی ورما، پرتیکا راول اور اسمرتی مندھانا کو آؤٹ کیا، تاہم کم ہدف کی وجہ سے پاکستان کے پاس میچ واپس کھینچنے کے لیے کافی گنجائش نہیں تھی۔ دیپتی شرما اور کپتان ہرمن پریت کور نے اننگز کو سنبھالا اور بھارت کو فتح تک پہنچایا۔

یہ میچ ہرمن پریت کور کے لیے بھی ایک سنگِ میل تھا کیونکہ وہ 150 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلنے والی پہلی کرکٹر بنیں۔ بھارت کی کامیابی کے بعد اس نے گروپ میں اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھی اور سیمی فائنل میں جگہ یقینی بنائی۔ دوسری جانب پاکستان کے لیے اگلا میچ اہم ہوگیا ہے اور اسے فائنل فور میں جگہ بنانے کے لیے ہانگ کانگ کے خلاف کامیابی درکار ہوگی۔

پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا نے میچ کے بعد اپنی تین وکٹوں کو ثانوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم کی شکست کے بعد انفرادی کارکردگی کی اہمیت کم رہ جاتی ہے اور ٹیم اگلے میچ میں بہتر کرکٹ کھیلنے کی کوشش کرے گی۔ اس شکست نے پاکستان کی بیٹنگ کی کمزوریوں کو نمایاں کیا، خصوصاً درمیانی اوورز میں وکٹیں گرنے کے بعد اننگز سنبھالنے میں ناکامی فیصلہ کن ثابت ہوئی۔