پاکستان میں چودھویں جنوبی ایشیائی فیڈریشن گیمز 4 سے 11 اپریل 2027 تک منعقد کرنے کی تاریخیں طے کردی گئی ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ جنوبی ایشیائی اولمپک کمیٹی کے ساتھ رابطے کے بعد کیا گیا۔ مقابلے اسلام آباد، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف مقامات پر ہوں گے، جبکہ مجموعی طور پر 28 کھیلوں میں چھ ہزار سے زیادہ کھلاڑیوں اور ٹیم حکام کی شرکت متوقع ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 5 ستمبر 2026 کو گیمز کی تیاریوں سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، وفاقی وزارت کے سیکریٹری، صوبائی حکومتوں کے نمائندوں اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔ وزارت خارجہ نے بتایا کہ قومی کوآرڈینیٹر کی تقرری اور اسٹیئرنگ، آرگنائزنگ اور صوبائی کمیٹیوں کی تشکیل بھی منظور کرلی گئی ہے۔
اسحاق ڈار نے متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کو قریبی رابطہ برقرار رکھنے، کھیلوں کے مقامات اور معاون سہولتوں کا کام وقت پر مکمل کرنے اور میزبانی کے معیار پر توجہ دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اسٹیئرنگ کمیٹی کو ہر ماہ اجلاس منعقد کرکے تیاریوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کا حکم بھی دیا۔ ماہانہ نگرانی کا فیصلہ انتظامی تیاری کا مرحلہ ہے؛ اس سے تمام وینیوز، رہائش، نقل و حمل یا سکیورٹی انتظامات پہلے ہی مکمل ہونے کی تصدیق نہیں ہوتی۔
جنوبی ایشیائی گیمز خطے کے ملکوں کا کثیر کھیلوں پر مشتمل مقابلہ ہے۔ متوقع شریک ملکوں میں پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، مالدیپ، نیپال اور سری لنکا شامل ہیں، تاہم ہر ملک کی حتمی شرکت، کھلاڑیوں کی تعداد اور کھیل وار اندراج متعلقہ قومی اولمپک تنظیموں اور آئندہ رسمی کارروائی کے بعد واضح ہوگا۔ چھ ہزار سے زیادہ افراد کا عدد کھلاڑیوں اور حکام کا مجموعی تخمینہ ہے، حتمی تصدیق شدہ انٹری لسٹ نہیں۔
گیمز میں ایتھلیٹکس، تیراکی، ہاکی، فٹ بال، والی بال اور باکسنگ سمیت مختلف انفرادی اور ٹیم کھیل شامل ہونے کی توقع ہے۔ وزارت خارجہ نے 28 کھیلوں کی مجموعی تعداد بتائی، لیکن موجودہ اعلان میں مکمل کھیل وار پروگرام، ہر مقابلے کا شہر، وینیو اور روزانہ شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔ یہ تفصیلات آرگنائزنگ کمیٹی، قومی کھیل فیڈریشنوں اور جنوبی ایشیائی اولمپک حکام کی بعد کی منظوریوں سے سامنے آئیں گی۔
چودھویں ایڈیشن کی میزبانی کئی بار تاخیر کا شکار رہی ہے۔ جنوبی ایشیائی گیمز کا گزشتہ ایڈیشن 2019 میں نیپال میں ہوا تھا، جبکہ پاکستان میں اگلا ایڈیشن پہلے 2021 کے لیے زیر منصوبہ تھا اور وبا سمیت مختلف انتظامی وجوہات کے باعث آگے بڑھتا رہا۔ تازہ اعلان نے اب اپریل 2027 کی آٹھ روزہ مدت متعین کی ہے، مگر بڑے بین الاقوامی مقابلے کے لیے تعمیراتی، مالی، سفری اور ٹیم شیڈول کے سنگ میل بروقت پورے کرنا ضروری ہوگا۔
تین مختلف انتظامی علاقوں میں مقابلوں کے انعقاد سے موجود سہولتوں کو استعمال کرنے اور کھیلوں کی میزبانی پھیلانے کا موقع مل سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ٹیموں کی نقل و حرکت، رہائش، طبی سہولت، براڈکاسٹنگ، رضاکاروں، ڈوپنگ کنٹرول اور سکیورٹی کے مربوط انتظام کی ضرورت بھی بڑھے گی۔ حکام نے اعلیٰ معیار برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے، تاہم بجٹ اور مقام وار تیاری کی تفصیلی رپورٹ فی الحال جاری نہیں ہوئی۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت 4 سے 11 اپریل 2027 کی تاریخوں کا تعین، 28 کھیلوں اور چھ ہزار سے زیادہ متوقع شرکا کا تخمینہ، اسلام آباد، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں مقابلوں کا منصوبہ، قومی کوآرڈینیٹر و کمیٹیوں کی منظوری اور ماہانہ نگرانی کی ہدایت ہے۔ حتمی کھیل وار شیڈول اور ملکی شرکت کی مکمل فہرست آئندہ جاری ہوگی۔




