اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے جنوبی ایشیائی فیڈریشن گیمز کی تیاریوں سے متعلق تمام وفاقی اور صوبائی اداروں کو قریبی رابطہ برقرار رکھنے، مقابلوں کے مقامات مقررہ وقت پر مکمل کرنے اور میزبانی کے انتظامات میں اعلیٰ معیار یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے تیاریوں کی پیش رفت مسلسل جانچنے کے لیے اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ منعقد کرنے کا بھی حکم دیا۔

اسحاق ڈار نے یہ ہدایات سیف گیمز کی تیاریوں کے لیے قائم اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کے سیکریٹری، صوبائی حکومتوں کے نمائندوں اور دیگر وفاقی و صوبائی حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوبی ایشیائی اولمپک کمیٹی کے ساتھ مشاورت کے بعد کھیلوں کی تاریخیں 4 اپریل سے 11 اپریل 2027 تک طے کر دی گئی ہیں۔ انتظامی ڈھانچے کے تحت قومی رابطہ کار کی تقرری اور اسٹیئرنگ، آرگنائزنگ اور صوبائی کمیٹیوں کی تشکیل بھی منظور کر لی گئی ہے۔ ان کمیٹیوں کی ذمہ داریوں میں مقابلوں کے مقامات، رہائش، نقل و حمل، سکیورٹی، کھلاڑیوں کی سہولت اور وفاقی و صوبائی سطح پر رابطہ شامل ہوگا، تاہم اجلاس کی جاری کردہ تفصیل میں ان شعبوں کے الگ الگ منصوبوں یا بجٹ کے اعداد نہیں بتائے گئے۔

سرکاری بریفنگ کے مطابق سیف گیمز میں مجموعی طور پر 28 کھیلوں کے مقابلے ہوں گے اور 6,000 سے زیادہ کھلاڑی اور عہدیدار پاکستان آنے کی توقع ہے۔ مقابلے اسلام آباد، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں منعقد کیے جائیں گے۔ فی الحال ہر کھیل کے مخصوص شہر، اسٹیڈیم یا مکمل شیڈول کی تفصیل جاری نہیں کی گئی، اس لیے ان نکات کو بعد کے سرکاری اعلانات سے حتمی شکل ملے گی۔

اسٹیئرنگ کمیٹی کی ماہانہ نگرانی کا فیصلہ اس لیے اہم ہے کہ مختلف میزبان علاقوں میں سہولیات کی تیاری، کھیلوں کی تکنیکی ضروریات اور بین الاقوامی وفود کے انتظامات ایک ہی ٹائم لائن کے تحت آگے بڑھائے جا سکیں۔ اسحاق ڈار نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تعمیر و مرمت، تنظیمی فیصلوں اور بین الادارہ رابطے میں تاخیر نہ ہونے دی جائے۔

پاکستان کی میزبانی سے متعلق یہ پیش رفت ابھی تیاری اور انتظامی منظوری کے مرحلے میں ہے۔ مقابلوں کی حتمی شرکت، ملک وار دستوں، کھیلوں کے تفصیلی پروگرام اور مقامات کی مکمل فہرست متعلقہ کھیل تنظیموں اور حکومتی اداروں کے آئندہ اعلانات سے سامنے آئے گی۔ موجودہ اعداد و تاریخیں وزارتِ خارجہ کے بیان پر مبنی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ سے لی گئی ہیں۔