اسلام آباد: پاکستان میں صارف قیمتوں کے اشاریے (CPI) کے مطابق اکتوبر 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 9.6 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو ستمبر میں 10.3 فیصد تھی۔ بزنس ریکارڈر نے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ اکتوبر 2025 میں سالانہ مہنگائی 6.2 فیصد رہی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں قیمتوں کا عمومی دباؤ اب بھی زیادہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ بنیاد پر اکتوبر میں CPI میں 1.1 فیصد اضافہ ہوا۔ ستمبر میں ماہانہ اضافہ 1.3 فیصد جبکہ اکتوبر 2025 میں 1.7 فیصد تھا۔ شہری علاقوں میں سالانہ مہنگائی 9.5 فیصد رہی، جو ستمبر کے 10.1 فیصد سے کم ہے۔ شہری CPI ماہانہ بنیاد پر 0.8 فیصد بڑھا۔

دیہی علاقوں میں سالانہ مہنگائی 9.8 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ ایک ماہ قبل یہ 10.5 فیصد تھی۔ دیہی قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر 1.5 فیصد اضافہ ہوا، جو شہری علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یہ فرق اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ مختلف علاقوں میں اشیائے ضروریہ اور دیگر اخراجات کا دباؤ یکساں نہیں رہا۔

رواں مالی سال 2026-27 کے پہلے چار ماہ میں اوسط CPI مہنگائی 10.05 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ 4.79 فیصد تھی۔ وزارت خزانہ نے اکتوبر کے لیے مہنگائی 9.5 سے 10.5 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ دیا تھا، اس لیے تازہ سرکاری نتیجہ اس پیش گوئی کی حد کے اندر ہے۔

سالانہ شرح میں ستمبر کے مقابلے میں کمی مہنگائی کی رفتار میں کچھ نرمی دکھاتی ہے، لیکن ماہانہ قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور مالی سال کے ابتدائی چار ماہ کی بلند اوسط یہ بتاتی ہے کہ گھرانوں کے اخراجات پر دباؤ ختم نہیں ہوا۔ مستقبل کی سمت پر توانائی کی عالمی قیمتیں، خوراک کی دستیابی، بنیادی اثرات اور ملکی رسد کی صورتحال اہم اثر ڈال سکتی ہے۔ یہ اعداد و شمار قیمتوں کی سطح میں کمی نہیں بلکہ قیمتوں کے بڑھنے کی سالانہ رفتار میں تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں۔