کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں ڈیجیٹل بینکاری اور الیکٹرانک ادائیگیوں کے بڑھتے استعمال کے تناظر میں بینکوں اور متعلقہ مالی اداروں کے لیے ڈیجیٹل فراڈ رسک مینجمنٹ سے متعلق ایک نیا فریم ورک جاری کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایسے فراڈ کے خطرات کو کم کرنا ہے جو موبائل اور انٹرنیٹ بینکاری، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور صارفین کی شناخت یا اکاؤنٹ معلومات کے غلط استعمال سے پیدا ہو سکتے ہیں۔

فریم ورک کے تحت مالی اداروں سے توقع کی گئی ہے کہ وہ فراڈ کے خطرات کی شناخت، نگرانی اور بروقت ردعمل کے لیے مضبوط انتظامی اور تکنیکی نظام قائم کریں۔ اس میں صارفین کی سرگرمیوں کی نگرانی، مشتبہ لین دین کی نشاندہی، تصدیقی طریقہ کار اور ایسے واقعات کی داخلی رپورٹنگ کے انتظامات شامل ہیں جن سے صارفین یا مالی نظام کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔

مرکزی بینک کی پالیسی کا اہم پہلو صارفین کا تحفظ ہے۔ مالی اداروں کو شکایات کے مؤثر ازالے، فراڈ کی صورت میں بروقت تحقیق اور صارفین کو محفوظ ڈیجیٹل طریقوں سے آگاہ کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔ تاہم کسی مخصوص فراڈ کیس میں ذمہ داری اور رقم کی واپسی کا فیصلہ متعلقہ قواعد، واقعے کے حقائق اور تحقیقات کے مطابق ہوگا؛ نئے فریم ورک کو ہر نقصان کی خودکار تلافی کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔

پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں اور موبائل بینکاری کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس کے ساتھ فشنگ، سوشل انجینئرنگ، جعلی کالز اور صارفین سے خفیہ معلومات حاصل کرنے جیسے خطرات بھی توجہ کا مرکز بنے ہیں۔ ریگولیٹری اداروں اور بینکوں نے صارفین کو بارہا متنبہ کیا ہے کہ وہ پاس ورڈ، پن، او ٹی پی اور دیگر حساس معلومات کسی غیر متعلقہ شخص کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

نئے فریم ورک کے نفاذ کا بنیادی مقصد ادارہ جاتی سطح پر فراڈ کے خلاف دفاع کو یکساں اور زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ بینکوں کو اپنے داخلی کنٹرول، ٹیکنالوجی اور نگرانی کے نظام کو مقررہ ریگولیٹری تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا تاکہ ڈیجیٹل مالی خدمات میں اعتماد برقرار رکھا جا سکے اور مشتبہ سرگرمیوں کے خلاف ردعمل کا وقت کم کیا جا سکے۔