اسلام آباد: پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی برآمدات رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 1.25 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق اس شعبے کی برآمدی کارکردگی میں اضافے کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل، یعنی ایس آئی ایف سی، کی معاونت اور آئی ٹی شعبے کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات سے منسلک کیا گیا ہے۔

جولائی سے ستمبر کے عرصے میں آئی ٹی خدمات سے حاصل ہونے والی برآمدی آمدن پاکستان کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ کے اہم ذرائع میں شامل رہی۔ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات کا شعبہ روایتی اشیائی برآمدات سے مختلف نوعیت رکھتا ہے، کیونکہ اس میں سافٹ ویئر، آئی ٹی خدمات، فری لانسنگ اور دیگر ڈیجیٹل کام کے ذریعے بیرون ملک سے آمدن حاصل کی جاتی ہے۔

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل معیشت ہنرمند نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ پاکستان میں نوجوان آبادی، سافٹ ویئر انجینئرنگ، فری لانسنگ اور کاروباری خدمات کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کو آئی ٹی برآمدات میں اضافے کے لیے اہم بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ تاہم روزگار کے مجموعی اثرات کی مکمل پیمائش کے لیے شعبہ جاتی اور لیبر مارکیٹ کے تفصیلی اعدادوشمار ضروری ہوں گے۔

آئی ٹی برآمدات میں اضافے کا براہ راست تعلق ملک کی خدماتی برآمدات اور زرمبادلہ آمدن سے ہے۔ مسلسل نمو برقرار رکھنے کے لیے انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ہنرمند افرادی قوت، ادائیگیوں کے نظام، کاروباری ماحول اور عالمی منڈیوں تک رسائی اہم عوامل ہیں۔ حکومت نے گزشتہ برسوں میں ٹیکنالوجی کمپنیوں اور فری لانسرز کے لیے سہولت کاری کو اپنی معاشی ترجیحات میں شامل رکھا ہے۔

پہلی سہ ماہی کا 1.25 ارب ڈالر کا حجم ایک محدود مدت کی کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔ پورے مالی سال کے نتائج کا انحصار آئندہ سہ ماہیوں میں عالمی طلب، مقامی کاروباری حالات اور پاکستانی کمپنیوں کی نئی منڈیوں تک رسائی پر ہوگا۔