اسلام آباد: پاکستان میں بیٹری اور توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبے میں بڑے پیمانے پر مقامی پیداواری صلاحیت قائم کرنے کے لیے 2.25 ارب ڈالر کی گیگا فیکٹری کا منصوبہ زیر غور ہے۔ عرب نیوز پاکستان کے مطابق حکام نے ملک میں بیٹری اسٹوریج کی تیزی سے بڑھتی ضرورت کے پیش نظر مقامی مینوفیکچرنگ کو صنعتی اور توانائی پالیسی کا اہم حصہ بنانے کی تیاری کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بیٹری ذخیرہ کرنے کی طلب اگلے چار برس میں ایک لاکھ میگاواٹ تک پہنچنے کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔ شمسی توانائی کے تیز پھیلاؤ، بجلی کے نرخوں، گرڈ کی ضروریات اور گھریلو و صنعتی صارفین کی جانب سے متبادل توانائی نظام اپنانے کے باعث بیٹری اسٹوریج کی مارکیٹ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
جولائی میں فوج کے زیر انتظام مارگلہ ہیوی انڈسٹریز لمیٹڈ نے چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ ملک کی پہلی ایسی بڑی فیکٹری قائم کرنے کے لیے معاہدہ کیا تھا۔ حکام کے مطابق پالیسی منظوری کے بعد نئی سہولت چند ماہ میں پیداوار شروع کر سکتی ہے، جبکہ لاہور، کراچی اور فیصل آباد میں مزید پلانٹس قائم کرنے کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔
بیٹری مینوفیکچرنگ میں مقامی صلاحیت بڑھانے سے درآمدی انحصار کم کرنے، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی دستیابی بہتر بنانے اور شمسی و دیگر قابل تجدید توانائی ذرائع کو گرڈ اور صارفین کے نظام میں شامل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم خام مال، ٹیکنالوجی، معیار، ری سائیکلنگ اور ماحولیاتی انتظام اس صنعت کے لیے اہم عملی چیلنج رہیں گے۔
2.25 ارب ڈالر کا منصوبہ ابھی منصوبہ بندی اور پالیسی عمل سے وابستہ ہے، اس لیے اسے مکمل شدہ سرمایہ کاری یا پیداوار شروع ہونے کی خبر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ منصوبے کے عملی آغاز کے لیے پالیسی منظوری، مالی انتظام، پلانٹ کی تعمیر، مشینری کی تنصیب اور سپلائی چین کے معاہدوں سمیت متعدد مراحل مکمل ہونا ضروری ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سولر پینلز اور بیٹریوں کی درآمد میں اضافہ توانائی کے استعمال کے انداز میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر مجوزہ مقامی صنعت تجارتی پیمانے پر قائم ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف بجلی ذخیرہ کرنے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ الیکٹرک گاڑیوں، صنعتی بیک اپ، گھریلو توانائی نظام اور گرڈ استحکام کے شعبوں تک پھیل سکتے ہیں۔
