اسلام آباد: پاکستان نے قومی ذہنی صحت پالیسی 2026-2035 کا آغاز کردیا ہے، جس کے ذریعے آئندہ دس برس کے دوران ذہنی صحت کی خدمات اور معاونت کے نظام کو وسعت دینے کے لیے قومی سطح پر پالیسی سمت فراہم کی گئی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق پالیسی کا مقصد ذہنی صحت سے متعلق خدمات اور مدد کو زیادہ وسیع سطح پر دستیاب بنانا ہے۔
نئی پالیسی ایسے شعبے پر توجہ مرکوز کرتی ہے جس میں علاج کے ساتھ آگاہی، بروقت مدد، تربیت یافتہ افرادی قوت اور صحت کے نظام کے مختلف حصوں کے درمیان رابطہ اہم ہوتا ہے۔ قومی پالیسی کا دس سالہ دورانیہ 2026 سے 2035 تک رکھا گیا ہے، جس سے حکومت نے ذہنی صحت کو قلیل مدتی اقدام کے بجائے ایک طویل مدتی صحت پالیسی کے طور پر آگے بڑھانے کا فریم ورک پیش کیا ہے۔
ذہنی صحت کی پالیسی کے عملی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر طے شدہ ترجیحات کو خدمات، بجٹ، تربیت، نگرانی اور عوامی رسائی میں کس طرح تبدیل کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں صحت کی فراہمی کے نظام میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے کردار الگ الگ ہیں، اس لیے قومی سطح کی حکمت عملی کو مؤثر بنانے کے لیے مختلف سطحوں پر رابطہ اور نفاذ اہم ہوگا۔ پالیسی کے اعلان کو اس کے عملی نفاذ اور نتائج سے الگ سمجھنا ضروری ہے؛ نئی دستاویز سمت متعین کرتی ہے، جبکہ خدمات میں حقیقی تبدیلی آئندہ اقدامات سے واضح ہوگی۔
سرکاری اعلان کے مطابق بنیادی ہدف ذہنی صحت کی خدمات اور معاونت کو بڑھانا ہے۔ اس تناظر میں آنے والے عرصے میں یہ دیکھا جائے گا کہ پالیسی کے تحت علاج تک رسائی، آگاہی، پیشہ ورانہ تربیت اور ضرورت مند افراد کے لیے معاون نظام میں کیا عملی تبدیلیاں متعارف کرائی جاتی ہیں۔ قومی سطح پر ایک باقاعدہ 2026-2035 فریم ورک کا اجرا اس موضوع کو صحت کی پالیسی میں واضح جگہ دیتا ہے، تاہم کامیابی کا پیمانہ دستیاب سہولتوں، انسانی وسائل اور قابل پیمائش نتائج سے طے ہوگا۔

