اسلام آباد: سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2026 کی تیسری سہ ماہی کے دوران تشدد سے منسلک اموات میں پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں 83 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ نے جولائی سے ستمبر تک دہشت گرد حملوں اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں سے متعلق 385 واقعات میں مجموعی طور پر 1,415 ہلاکتیں اور 558 زخمی ریکارڈ کیے۔ یہ اعداد سی آر ایس ایس کی نگرانی اور درجہ بندی پر مبنی ہیں، سرکاری مجموعی قومی اعدادوشمار نہیں۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختونخوا تشدد کے اہم مراکز رہے اور دونوں صوبوں نے مل کر مجموعی ہلاکتوں کا تقریباً 98 فیصد حصہ تشکیل دیا۔ بلوچستان میں 829 ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں، جو قومی مجموعے کا تقریباً 59 فیصد ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں 556 ہلاکتیں رپورٹ کی گئیں۔ بلوچستان میں 186 اور خیبر پختونخوا میں 173 واقعات ریکارڈ ہوئے۔ زخمیوں کی تعداد خیبر پختونخوا میں 376 اور بلوچستان میں 163 بتائی گئی۔
سی آر ایس ایس کے مطابق دوسری سے تیسری سہ ماہی کے درمیان اضافہ 2021 کے بعد سہ ماہی بنیاد پر سب سے نمایاں اضافوں میں سے ہے۔ رپورٹ میں بلوچستان میں ہلاکتوں کے 265 سے بڑھ کر 829 ہونے، یعنی 213 فیصد اضافے، کو مجموعی قومی اضافے کا بڑا سبب قرار دیا گیا۔ خیبر پختونخوا میں ہلاکتیں 475 سے بڑھ کر 556 ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق عسکریت پسند یا قانون شکن قرار دیے گئے افراد کی ہلاکتیں 921 رہیں، جبکہ شہریوں کی 254 اور سکیورٹی اہلکاروں کی 240 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔
ذمہ داری قبول کرنے والے گروہوں سے متعلق رپورٹ میں تحریک طالبان پاکستان کو تیسری سہ ماہی میں سب سے زیادہ جان لیوا حملوں کا دعویٰ کرنے والا گروہ بتایا گیا، جس کے 13 دعویٰ کردہ حملوں میں 117 اموات اور 65 زخمی رپورٹ ہوئے۔ ایسے دعووں اور گروہی نسبت کو آزادانہ طور پر ہر واقعے میں یکساں طور پر تصدیق شدہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ رپورٹ کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ تیسری سہ ماہی میں تشدد کی شدت بڑھی اور اس کا جغرافیائی بوجھ خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا پر مرکوز رہا۔

