اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نیشنل مینٹل ہیلتھ پالیسی 2026-2035 کا باضابطہ آغاز کردیا ہے، جس کے تحت ذہنی صحت کی خدمات کو بنیادی صحت، تعلیمی اداروں اور کمیونٹی سطح تک وسعت دینے، پیشہ ور افرادی قوت بڑھانے اور علاج تک رسائی میں موجود بڑے خلا کو کم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ پالیسی کا اعلان یکم اکتوبر کو اسلام آباد میں پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 کے افتتاحی روز کیا گیا۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وزارتِ قومی صحت کی قیادت میں تیار ہونے والی پالیسی پر صوبائی حکام، عالمی ادارۂ صحت، یونیسف، جامعات اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ عمل درآمد کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔ سرکاری اعداد کے مطابق پاکستان میں اندازاً 32.4 ملین افراد کو کسی نہ کسی درجے کی ذہنی صحت کی دیکھ بھال درکار ہے، جبکہ دستیاب خدمات تک رسائی بہت محدود ہے۔ APP نے پالیسی لانچ کے موقع پر بتایا کہ تقریباً پانچ فیصد آبادی مطلوبہ خدمات حاصل کر پاتی ہے، جس سے علاج کا خلا تقریباً 95 فیصد بنتا ہے۔

حکومت نے افرادی قوت کی کمی کو بھی ایک بنیادی مسئلہ قرار دیا ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق ملک میں فی ایک لاکھ آبادی کے لیے نفسیاتی امراض کے ماہرین کی تعداد تقریباً 0.19 ہے، جو اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں رپورٹ ہونے والی اوسط سے کہیں کم ہے۔ وزارتِ صحت اس کمی سے نمٹنے کے لیے پرائمری ہیلتھ کیئر کے عملے کی تربیت، ذہنی صحت کی مہارت سے متعلق سرٹیفکیشن اور ڈپلومہ پروگرام، ٹیلی میڈیسن میں ذہنی صحت کی خدمات اور متعلقہ اداروں کے درمیان حوالہ جاتی نظام مضبوط کرنے جیسے اقدامات پر کام کر رہی ہے۔

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے سمٹ میں کہا کہ ذہنی صحت کو صرف ماہر ہسپتالوں تک محدود مسئلہ نہیں سمجھا جا سکتا اور اس کے لیے صحت، تعلیم، خاندان اور کمیونٹی کی سطح پر مربوط کارروائی ضروری ہے۔ وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد نے کہا کہ پالیسی کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے صوبوں اور علاقوں کے ساتھ شراکت اہم ہوگی، خصوصاً اسکولوں، بنیادی مراکز صحت اور مقامی کمیونٹیز میں۔

دو روزہ سمٹ میں تقریباً 800 حضوری اور آن لائن شرکا کی شرکت کا اعلان کیا گیا، جن میں پالیسی ساز، ذہنی صحت کے ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کے نمائندے شامل تھے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق پالیسی میں بچوں اور نوجوانوں، بروقت شناخت، کمیونٹی پر مبنی خدمات، ڈیٹا اور نگرانی، اور موسمی و سماجی دباؤ کے تناظر میں لچکدار ذہنی صحت نظام پر بھی توجہ دی گئی ہے۔

پالیسی کا اعلان بذاتِ خود خدمات کی فوری فراہمی کے برابر نہیں، اس لیے اس کی کامیابی کا دارومدار صوبائی عمل درآمد، بجٹ، تربیت یافتہ عملے، ضابطہ کاری، ڈیٹا سسٹمز اور بنیادی صحت کے موجودہ ڈھانچے میں ذہنی صحت کی مؤثر شمولیت پر ہوگا۔ آئندہ مرحلے میں وفاقی اور صوبائی اداروں کی عملی ذمہ داریاں اور قابلِ پیمائش اہداف اس قومی فریم ورک کے نتائج کا اہم پیمانہ ہوں گے۔