اسلام آباد/بنکاک: ایشیائی گیس اور ایل این جی مارکیٹ کے بارے میں گیس ٹیک کانفرنسز کی نئی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے پاکستان کو ایل این جی سپلائی میں رکاوٹ سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل کر دیا ہے۔ رپورٹ کی تفصیلات 18 ستمبر 2026 کو پاکستانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئیں۔

گیس ٹیک کے مطابق قطر اور متحدہ عرب امارات مل کر پاکستان کی تقریباً 99 فیصد درآمدی ایل این جی فراہم کرتے ہیں۔ یہ ایندھن بجلی کی پیداوار، کھاد سازی اور مختلف صنعتی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ رپورٹ کے مطابق ایل این جی پاکستان کی مجموعی گیس فراہمی کا تقریباً 30 فیصد بنتی ہے۔ اسی لیے خلیجی سمندری راستوں میں طویل رکاوٹ یا شپنگ کی غیر یقینی صورت حال پاکستان کی توانائی لاگت اور گیس دستیابی پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال نے عالمی توانائی کے تجارتی راستوں اور قیمتوں کو تیزی سے تبدیل کیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث سپلائی کے خطرات بڑھنے کے ساتھ پاکستان سمیت متعدد ایشیائی ممالک توانائی تحفظ کے متبادل راستوں پر دوبارہ غور کر رہے ہیں۔ اس میں قابل تجدید توانائی، بجلی ذخیرہ کرنے کے نظام، گیس اسٹوریج، اسٹریٹجک ایندھن ذخائر اور بجلی کی پیداواری ترکیب میں تبدیلی جیسے اقدامات شامل ہیں۔

پاکستان کے لیے رپورٹ میں شمسی اور ہوا سے بجلی کی تیز رفتار توسیع، کمرشل روف ٹاپ سولر اور اسٹوریج کی صلاحیت بڑھانے کو ممکنہ اقدامات میں شمار کیا گیا۔ اس کے ساتھ طویل مدتی گیس ذخیرہ کرنے کے بنیادی ڈھانچے اور زیادہ لچکدار گیس پاور پلانٹس پر سرمایہ کاری کو بھی توانائی کے اچانک جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی کے چیف ایگزیکٹو غیاث عبداللہ پراچہ کے مطابق گیس ٹیک اجلاس کے دوران ان کی کمپنی نے بین الاقوامی کمپنیوں سے پاکستان میں گیس اسٹوریج، طویل مدتی ایل این جی معاہدوں اور بیرون ملک گیس تقسیم کے ممکنہ منصوبوں پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ کمپنیوں نے پاکستان میں ذخیرہ گاہوں اور طویل مدتی ایل این جی سپلائی میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یہ بات چیت ابھی ممکنہ منصوبوں اور تجارتی دلچسپی کی سطح پر ہے، اسے حتمی سرمایہ کاری یا معاہدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

رپورٹ کے مطابق گیس سپلائی میں رکاوٹ کے باعث پاکستان کو کوئلہ، پن بجلی اور جوہری توانائی سمیت دیگر ذرائع پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور جہاز رانی کی غیر یقینی کیفیت بجلی کی لاگت میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔