پاکستان میں بلدیاتی نظام کی اصلاحات پر کام کرنے والی ایک ٹاسک فورس نے مقامی حکومتوں کے لیے آئینی طور پر محفوظ مالی وسائل، براہ راست منتخب میئرز اور چیئرمینز اور شہری خدمات پر زیادہ انتظامی اختیار دینے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبائی سیاسی اور بیوروکریٹک کنٹرول نے آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت اختیارات کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی کو محدود رکھا ہے۔

ٹاسک فورس آن ریفارمز اِن لوکل گورننس اِن پاکستان کی رپورٹ بی این یو سینٹر فار پالیسی ریسرچ اور سنوبر انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے تیار کی گئی۔ ٹاسک فورس نے جنوری سے جون 2026 کے دوران مشاورت کی اور مختلف صوبوں کے بلدیاتی ڈھانچوں، مالی اختیارات اور انتظامی رکاوٹوں کا جائزہ لیا۔ رپورٹ کا مؤقف ہے کہ کسی صوبے نے مستقل طور پر سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب مقامی حکومتوں کو منتقل کرنے کی آئینی روح پوری نہیں کی۔

رپورٹ میں مقامی حکومتوں کے لیے مبینہ طور پر قابل تقسیم مالی وسائل کا 30 سے 40 فیصد آئینی طور پر محفوظ کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اگرچہ رپورٹ میں یہ پوری طرح واضح نہیں کہ یہ شرح کس مخصوص divisible pool پر لاگو ہوگی۔ سفارش ہے کہ سالانہ مالی حصہ ایک واضح اور پیشگی فارمولے کے تحت جاری ہو اور صوبائی فنانس کمیشن آبادی، آمدن پیدا کرنے کی صلاحیت اور ضرورت جیسے پیمانوں کی بنیاد پر تقسیم کرے۔

ٹاسک فورس نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کے ذریعے چلنے والے الگ ترقیاتی فنڈز ختم کرنے یا انہیں مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنے کے لیے ازسرنو ترتیب دینے کی سفارش بھی کی۔ رپورٹ کے مطابق متوازی ترقیاتی اخراجات منتخب بلدیاتی اداروں کے اختیار اور جواب دہی کو کمزور کرتے ہیں۔ مقامی اداروں کو پراپرٹی ٹیکس، شہری زمین پر کیپیٹل گینز سے متعلق محصولات، زرعی سیس اور مقامی صارف فیس کے تعین، وصولی اور استعمال میں زیادہ اختیار دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔

رپورٹ نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے بعض حصوں پر تنقید کرتے ہوئے براہ راست منتخب میئرز اور چیئرمینز کی حمایت کی۔ بڑے شہروں کے لیے ایسے میٹروپولیٹن اداروں کی تجویز دی گئی ہے جن کے منتخب سربراہ پانی، صفائی، ماس ٹرانزٹ اور ترقیاتی اداروں پر مؤثر اختیار رکھیں۔ تعلیم میٹرک تک، بنیادی و ثانوی صحت، پانی، سیوریج، کچرا، مقامی سڑکیں اور کمیونٹی ویلفیئر مقامی حکومتوں کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

یہ سفارشات فی الحال ایک پالیسی رپورٹ ہیں، نافذ قانون یا حکومتی فیصلہ نہیں۔ ان پر عمل درآمد کے لیے آئینی ترامیم، صوبائی قانون سازی، مالیاتی فارمولوں اور سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت ہوگی۔ رپورٹ نے اصلاحات کو مرحلہ وار نافذ کرنے، بجٹ اور کارکردگی آن لائن شائع کرنے اور مقامی اداروں کی جواب دہی مضبوط بنانے کی بھی سفارش کی ہے۔