گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3(1) کے تحت اختیارات صوبے بھر کے ڈپٹی کمشنرز کو تفویض کر دیے ہیں۔ سرکاری ریڈیو کے مطابق گورنر نے اپنے بیان میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد ضلعی سطح پر بروقت اور مؤثر احتیاطی کارروائی ممکن بنانا، انتظامی تاخیر کم کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطہ مضبوط کرنا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ تفویض کیے گئے اختیارات آئین اور قانون کی حدود کے اندر استعمال ہونے چاہئیں۔ انہوں نے خاص طور پر کہا کہ ان اختیارات کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق صوبے میں امن، سلامتی اور شہریوں کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔ یہ ہدایت اس لیے اہم ہے کہ مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت انتظامیہ کو امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے بعض احتیاطی اقدامات کی قانونی گنجائش حاصل ہوتی ہے، جن کے استعمال پر قانونی تقاضوں کی پابندی لازم رہتی ہے۔
اختیارات کی ضلعی سطح تک منتقلی سے متعلق سرکاری مؤقف یہ ہے کہ مقامی انتظامیہ حالات کے مطابق زیادہ تیزی سے فیصلہ کر سکے گی اور صوبائی سطح سے منظوری یا کارروائی میں پیدا ہونے والی تاخیر کم ہوگی۔ تاہم گورنر کے بیان میں کسی مخصوص فرد، تنظیم یا واقعے کو اس فیصلے کا ہدف قرار نہیں دیا گیا۔ اس لیے اسے صوبے کی عمومی امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں انتظامی اختیار کی تفویض کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس اقدام کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز ان اختیارات کو کن حالات میں اور کس قانونی بنیاد پر استعمال کرتے ہیں۔ کسی بھی انفرادی حکم یا کارروائی کی قانونی حیثیت اس کے مخصوص حقائق، تحریری وجوہات اور قابل اطلاق عدالتی و آئینی اصولوں کے مطابق جانچی جائے گی۔ گورنر کی جانب سے عدمِ سوء استعمال کی ہدایت اسی قانونی احتیاط کو نمایاں کرتی ہے۔
