وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات نے پاکستان کے میری ٹائم شعبے کی جدید کاری کے لیے 99 نکاتی روڈمیپ پر عمل درآمد تیز کر دیا ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق روڈمیپ بندرگاہوں، لاجسٹکس، قومی شپنگ، جہاز سازی اور ماہی گیری سمیت اہم شعبوں میں ادارہ جاتی اور عملی اصلاحات پر مرکوز ہے۔
حکومت پاکستان کے سمندری وسائل کی ممکنہ بلیو اکانومی صلاحیت 100 ارب ڈالر سے زیادہ بتاتی ہے۔ یہ ممکنہ معاشی صلاحیت کا سرکاری تخمینہ ہے، موجودہ سالانہ آمدن نہیں۔ پاکستان کا تقریباً تمام بڑا بیرونی تجارتی حجم سمندری راستوں سے گزرتا ہے، اس لیے بندرگاہوں اور شپنگ کی کارکردگی قومی تجارت سے براہ راست جڑی ہے۔
99 نکاتی روڈمیپ دسمبر 2024 میں پیش کیا گیا تھا اور اب ٹاسک فورس اس کے مختلف حصوں پر عمل کر رہی ہے۔ قومی شپنگ بیڑے میں اضافہ درآمد و برآمد کے فریٹ پر بیرونی کمپنیوں پر انحصار کم کر سکتا ہے، جبکہ مقامی جہاز سازی صنعتی روزگار اور تکنیکی صلاحیت بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
ماہی گیری اور ساحلی معیشت میں بہتری کے لیے صرف پیداوار بڑھانا کافی نہیں؛ کولڈ چین، معیار، برآمدی سرٹیفکیشن اور پائیدار فش اسٹاک مینجمنٹ بھی ضروری ہیں۔ اسی طرح بندرگاہی توسیع کے ساتھ ساحلی ماحول اور مقامی آبادیوں کے مفادات کا تحفظ اہم ہوگا۔
اصلاحاتی روڈمیپ کی کامیابی کا پیمانہ سرکاری اہداف کے بجائے بندرگاہوں پر کارگو کلیئرنس وقت، قومی شپنگ حصے، جہاز سازی، ماہی گیری برآمدات اور نجی سرمایہ کاری میں عملی اضافہ ہوگا۔ حکومت کی موجودہ پیش رفت بحری شعبے کو ایک الگ قومی معاشی ترجیح بنانے کی کوشش ہے، جس میں نجی سرمایہ اور بین الاقوامی شراکت داری دونوں کا کردار متوقع ہے۔




