اسلام آباد: پاکستان نے ایشیائی ترقیاتی بینک، ADB، سے کراچی تا پشاور مین لائن ون ریلوے منصوبے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور تجارتی طور پر قابلِ عمل نجی شعبے کے منصوبوں کے لیے مالی تعاون بڑھانے کی درخواست کی ہے۔ یہ مطالبات 2 اور 3 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں ADB کے نائب صدر برائے جنوبی، وسطی و مغربی ایشیا ینگ منگ یانگ کی قیادت میں وفد کی وفاقی وزرا سے الگ ملاقاتوں میں سامنے آئے۔

وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ نے ML-1 کو قومی سطح کا اہم منصوبہ قرار دیا اور کہا کہ حکومت نجکاری، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے مؤثر ڈھانچوں، بہتر منصوبہ جاتی نفاذ اور قابلِ فنانسنگ منصوبوں کی مضبوط فہرست تیار کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق انہوں نے ADB سے پاکستان میں اپنی نجی شعبہ جاتی کارروائیوں اور سرمایہ کاری پورٹ فولیو کو وسیع کرنے کی درخواست کی۔

ADB کے نائب صدر نے پاکستان میں منصوبہ شروع ہونے سے پہلے تیاری بہتر بنانے کی اصلاحات کو سراہا اور کہا کہ بینک ML-1 کو جلد عملی مرحلے تک پہنچانے کے لیے حکومت کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے پاکستان ریلوے کی ادارہ جاتی اصلاحات پر ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کی تجویز بھی دی۔ سرکاری بیان میں ADB کی جانب سے نجی شعبے کا پورٹ فولیو بڑھانے کی یقین دہانی درج ہے، مگر کسی نئی مخصوص قرض رقم، منظوری کی تاریخ یا فوری رقم اجرا کا اعلان نہیں کیا گیا۔

3 ستمبر کو وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی سے ملاقات میں ML-1 کی اپ گریڈیشن اور فنانسنگ پر الگ تفصیلی بات چیت ہوئی۔ وزیر نے کہا کہ حکومت موجودہ مالی سال میں کراچی–روہڑی حصے کا سنگِ بنیاد رکھنا چاہتی ہے۔ سرکاری تخمینے کے مطابق اس حصے کی لاگت تقریباً 2.5 ارب ڈالر ہے اور اسے تین برس میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ 183 کلومیٹر طویل نواب شاہ–روہڑی سیکشن کو ترجیحی بنیاد پر لینے کا منصوبہ ہے۔

حنیف عباسی نے ADB سے منصوبے کے مرکزی سرمایہ کاری قرض کی منظوری کا عمل تیز کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے روہڑی سے پشاور تک باقی ML-1 حصوں کے لیے بھی ADB اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس درخواست سے واضح ہے کہ کم از کم بعض فنانسنگ اور منظوری مراحل ابھی مکمل ہونا باقی ہیں؛ ملاقات کو نئے قرض کی حتمی منظوری یا مکمل مالی بندوبست کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔

ڈان نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ کراچی–روہڑی حصے کے لیے ADB سے 2 ارب ڈالر کی فنانسنگ حاصل کی جا چکی ہے، جبکہ 3 ستمبر کے سرکاری ریلوے بیان میں مرکزی سرمایہ کاری قرض کی منظوری تیز کرنے کی درخواست موجود ہے۔ دونوں بیانات ممکنہ طور پر مختلف مالی مراحل یا اجزا سے متعلق ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی مکمل دستاویزی تفصیل عوامی اعلامیوں میں نہیں دی گئی۔ اس لیے درست نتیجہ یہی ہے کہ فنانسنگ پر پیش رفت ہوئی ہے، مگر موجودہ ملاقات میں کسی نئے قرض پیکیج کی باضابطہ منظوری کا اعلان نہیں ہوا۔

ڈان کے مطابق مکمل کراچی–پشاور ML-1 منصوبے کو تقریباً 10 ارب ڈالر مالیت کا قومی فلیگ شپ پروگرام بتایا جا رہا ہے۔ وزیر ریلوے کا کہنا ہے کہ اپ گریڈیشن سے کراچی اور لاہور کے درمیان سفر کا وقت تقریباً پانچ گھنٹے کم ہو سکتا ہے، ریل کی رفتار، حفاظت، مسافر سہولت اور مال برداری کی گنجائش بہتر ہو گی۔ یہ حکومتی متوقع فوائد ہیں؛ حقیقی وقت، لاگت اور کارکردگی کا تعین حتمی ڈیزائن، معاہدوں، تعمیراتی پیش رفت اور مکمل ہونے کے بعد آپریشنل نتائج سے ہو گا۔

پاکستانی حکام نے ADB کے ساتھ وسیع ترقیاتی ایجنڈے پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ اس میں چھوٹے اور درمیانے کاروبار، برآمدی نمو، ہدفی ہنرمندی پروگرام، بجلی کی ترسیل و تقسیم، پانی و غذائی تحفظ اور تکنیکی معاونت شامل ہیں۔ حکومت نے پالیسی پر مبنی ضمانت اور پانڈا بانڈ کے اجرا کے لیے ضمانت جیسے نئے مالیاتی آلات میں ADB کے کردار کا بھی حوالہ دیا، جبکہ بینک نے منصوبوں کی تیاری اور معاشی اصلاحات میں تعاون جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔

ADB کا وفد پاکستان کے 2026–2030 ملکی شراکت داری پروگرام کی پیروی کے لیے اسلام آباد آیا تھا۔ ڈان کے مطابق اس حکمتِ عملی کا مجموعی حجم تقریباً 10 ارب ڈالر ہے اور اسے مارچ میں بینک کے بورڈ نے منظور کیا تھا۔ تاہم ملکی شراکت داری حکمتِ عملی ایک وسیع پروگراماتی فریم ورک ہے؛ اس کے تحت ہر انفرادی منصوبے، قرض، ضمانت یا نجی سرمایہ کاری کے لیے اپنی تکنیکی جانچ، ماحولیاتی و سماجی تقاضے، حکومتی منظوری اور ADB بورڈ یا متعلقہ اختیار کا الگ عمل ہو سکتا ہے۔

ML-1 اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں آئندہ قابلِ پیمائش پیش رفت قرض کی تحریری منظوری، مالی اختتام، خریداری و ٹھیکوں، زمین اور آبادکاری کے انتظام، تعمیر کے آغاز اور منصوبہ وار اوقات سے سامنے آئے گی۔ موجودہ ملاقاتوں کا فوری نتیجہ سیاسی و تکنیکی رابطہ تیز کرنا، ریلوے اصلاحات کے ورکنگ گروپ کی تجویز اور نجی شعبے کی ADB سرگرمی بڑھانے کی یقین دہانی ہے، نہ کہ تمام مطلوبہ رقوم کا حتمی اجرا۔